کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1164
ٹھیکہ تاڑی اور خمر کا درست ہے یا نہیں؟ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ ٹھیکہ تاڑی اور خمر کا درست ہے یا نہیں؟ اور جو شخص کہ ٹھیکہ لیوے اس کی دعوت اور امامت جائز ہے یا نہیں بینوا تو جروا۔  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! تاڑی اور خمر کا ٹھیکہ مثل خرید و فروخت اس کے ہے شرعاً ما یصلح ثنا یصلح اجرة کذا فی کتب الفقہ جاز الخذ دین علی کافرمن ثمن خمر لصحة بیعہ بخلاف دین علی المسلم لبطلانہ کذا فی التون والشروح الحنفیة لا نہ مال متفومہ فی حق الکافر فہلکہ المبائع فیحل الا خذمنہ قولہ لبطلونہ لان الخمر لیس بمال متقو م فی حق المسلم فبقی الثمن علی ملک المشتری فلا یحل لہ اخذہ من البا ئع کذافی الطحطادی و ہکذافی الہدا یة وغیرہا. پس اس صورت میں مال اور طعام تاڑی و شراب کے ٹھیکہ لینے والے کا حرام اور لینا مال  اس کا کھانا کھانا اس کا دعوت اس کی قبول کرنی حرام ہے شرعاًاگر بذریعہ تاڑی اور خمر یا بوجہ اور حرام کے حاصل کیا ہو ، ولا یجیب دعوة الفاسق المعلن لیعلم انہ غیر راض بفسقہ وکذا دعوة من عالب مالہ حرام مالم یخبرانہ حلال و با لعکس یجیب ملم من انہ لمرام واکل للربوا وکاسب الحرام لواہدی الیہ ادا ضافہ وغالب مالہ حرام لا یقبل ولا یاکل الی اخر ما فی الطحطادی والعالمگیر یة وغیرہما من کتب الفقہ. اور ایسے شخص مذکورکو امام نہ بنا دے اس لئے کہ یہ فاسق قابل اہانت کے ہے  (کجھور یا تاڑ کا وہ قدرتی رس ہے جس کو نشہ آور بنا لیا جاتاہے،  (مؤلف) ) لا یقدم الفاسق للا مامة کذافی المستملی وغیرہ من کتب الفقہ اللہ اعلم .  (“سید محمد نذیر حسین عفی عنہ”فتاوی نذیر یہ ج ۲ نمبر ۵۵) فتاویٰ ثنائیہ جلد 2 ص 435