کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1126
تمبا کو،سگریٹ اور حقہ کا سامان فروخت کرنا السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ تمبا کو،سگریٹ اور حقہ کا سامان فروخت کرنا جائز ہے یا نا جائز ؟  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! تمبا کو چونکہ مکروہ ہے اس کی بیع کابھی یہی حکم ہے ، واللہ اعلم.  (۱۶فروری ۱۹۴۰ء؁) شرفیہ:۔  حقے کو مکروہ بھی کہا گیا ہے اور حرام بھی،  بلکہ مباح بھی ، مگر ترجیح حرمت کو معلوم ہوتی ہے اس لئے کہ اس میں فتور ہے اورابوداؤد کی روایت میں مفقر شئے کی نئی اورد ہے اور اس میں تشبہ باہل النار بھی ہےآیت إِنَّمَا یَأْکُلُونَ فِی بُطُونِہِمْ نَارً‌ۭا اور اس میں اسراف و تبذیر بھی ہیں جس سے آدمی اخوان الشیاطین میں داخل ہوتاہے اور خصوصاً حقہ کے سڑے پانی میں خبث اور بحکم وَیُحَرِّ‌مُ عَلَیْہِمُ ٱلْخَبَـٰٓئِثَ جو حرام ہے مگر جھوٹ فریب وعدہ خلافی وغیرہ وغیرہ کی طرح یہ بلا بھی عام ہے لوگ برا  نہیں جانتے ،  (ابو سعید شرف الدین ،  دھلوی) فتاویٰ ثنائیہ جلد 2 ص 403