کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1006
کرنسی کے کاروبار کے بارے میں حکم السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ کیا مسلمان کے لیے کرنسی کا کاروبار کرنا صحیح ہے؟ کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے؟ اس کے  کاروبار کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! کرنسی کے کاروبار میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ نقدی کے ساتھ بیع ہے لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ الگ ہونے سے پہلے بائع اور مشتری اپنی اپنی نقدی کو قبضہ میں لے لیں، خواہ وہ نقدی دے کر بینک کی طرف سے تصدیق شدہ چیک وصول کریں کیونکہ چیک بھی نقدی ہی کے قائم مقام ہیں اور خواہ یہ دونوں باہمی سودا کرنے والے مالک ہوں یا وکیل، اور اگر عرف اس طرح نہ ہو تو پھر یہ کاروبار جائز نہ ہو گا اور ایسا کام کرنے والا گناہ گار اور ناقص الایمان تو ضرور ہو گا لیکن وہ اس سے کافر نہیں ہو گا۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب محدث فتوی فتوی کمیٹی