کتاب: اجتماعی نظام - صفحہ 1003
(245)تقریبات میں ترانے اور طبلے کا استعمال کرنے کا حکم السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ بعض تقریبات یا دوسرے موقعوں پر ہم ترانوں کے ساتھ طبلے بھی استعمال کرتے ہیں اور بعض راتیں اسی کام میں گزار دیتے ہیں۔ لیکن ایک دفعہ ہم پر کسی آدمی نے گرفت کی۔ کیا ہمارا یہ کام ناپسندیدہ ہے… یعنی ہم جو ترانے گاتے اور طبلے استعمال کرتے ہیں… یہ خیال رہے کہ ہم جو ترانے دہراتے ہیں ان میں فحش کلام نہیں ہوتا۔ مجھے فتویٰ دیجئے اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ (سعود۔ س۔ الریاض)  الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ! الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد! ہم ایسی کوئی بات نہیں جانتے جس کی رو سے طبلوں کا استعمال مباح ہو۔ بلکہ صحیح احادیث کے ظاہری معنی طلبوں کے استعمال کی حرمت پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسے کہ موسیقی کے دوسرے آلات مثلاً عود اور کمان وغیرہ ہیں۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَیَکُونَنَّ مِنْ اُمَّتی اقوامٌ یَسْتَحِلُّونَ: الحِرَ، والْحَریرَ، والْخَمْرَ، والمَعَازِفَ)) ’’میری امت سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور گانے بجانے کو حلال بنا لیں گے۔ اور حر کا معنی زنا اور معازف کا معنی گانے اور آلات موسیقی ہیں۔‘‘ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتاویٰ دارالسلام ج 1