کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 96
تمام روایات اس امام کی قراء ت سمجھی جاتی ہیں۔ اگر اَحرف سبعہ ہی آئمہ سبعہ کی قراء ات ہیں، تو پھر مختلف راویوں نے جو کچھ آئمہ سے نقل کیا ہے، اگر اس کو مدنظر رکھا جائے تو ان منقول روایات (قراء ات) کی تعداد کاشمار ممکن نہیں ہے، جبکہ اَحرف سبعہ مخصوص عدد تک محدود ہیں۔ امام ابوشامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’بعض لوگوں کا خیال ہے کہ احرفِ سبعہ سے مراد موجودہ قراء ات ِسبعہ ہیں، حالانکہ یہ بات راسخ اہل علم کے اجماع کے خلاف ہے۔ یہ خیال تو فقط جہلاء کا ہے۔‘‘ صحیح بات یہی ہے کہ قراء ات سبعہ اور قراء ات ثلاثہ، جن کی لوگ آج تلاوت کرتے ہیں اَحرف سبعہ کا ایک حصہ ہیں۔ اس بارے میں منقول تمام روایات متواتر ہیں اور ان کے ثبوت کے لیے حدیث: ((أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ۔))آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ اسی طرح یہ قراء ات عشرہ اس دور کے موافق ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ اپنی زندگی کے آخری ایام میں فرمایا تھا۔ امام ابن اَشتہ رحمہ اللہ نے ’المصاحف‘ اوراِمام ابن شیبہ رحمہ اللہ نے’فضائل قرآن‘ میں امام ابن سیرین رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے: ’’ جو قراء ات لوگ آج پڑھ رہے ہیں، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدنا جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ کئے گئے اس دَور کے مطابق ہیں، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری سال میں کیا تھا۔‘‘ اسی طرح امام ابن اَشتہ رحمہ اللہ نے ہی امام ابن سیرین رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا جبرئیل علیہ السلام سے ہر سال رمضان کے مہینہ میں دور کیا کرتے تھے، لیکن زندگی کے آخری سال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے دو مرتبہ دور کیا۔ اہل علم کاخیال ہے کہ ہماری موجودہ قراء ت عرضہ اخیرہ