کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 88
موزے پہنے ہوں وہ مسح کرے اورجس نے موزے نہ پہنے ہوں اس کے لیے پاؤں دھونا واجب ہے۔یوں یہ دونوں حکم ایک دوسرے کے بدل ہوں گے، جس کا مطلب ہے ایک حالت میں پاؤں دھونا پاؤں پر مسح کا بدل ہوگا اور موزے پہننے کی صورت میں مسح کرنا پاؤں دھونے کابدل ہوگا۔ ۵۔ تعددِ ِقراء ات کی تعدد ِ اعجاز پر دلالت یعنی جب ایک قراء ت کے مطابق تلاوت کی جائے گی، تو ایک اعجاز ظاہرہوگا اورجب دوسری قراء ت کے مطابق تلاوت کی جائے گی تودوسرا اعجاز ظاہر ہوگا۔چنانچہ کئی قراء ات سے کئی معجزات کا ظہور ہوگا۔ جس کو جتنے زیادہ معجزات اورآیات یاد ہوں گی وہ اسی قدر قرآن کے کلام اللہ، وحی الٰہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے کی دلیل ہوں گی۔ ۶۔ تنوع قراء ات میں قرآن مجید کے کلام اللہ ہونے اوراس کی تصدیق کرنے والے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہونے پر براہین قاطعہ اور دلائل صادقہ موجود ہیں: ایک منصف مزاج آدمی پریہ بات مخفی نہیں ہے کہ قرآن مجید تنوع قراء ات کے باوجود ٹکراؤ، تناقض،تضاد اورتعارض سے پاک ہے،بلکہ اختلاف ِلہجات اورتنوع ِاَوجہ کے باوجود اس ایک حصہ دوسرے حصے کی تصدیق، وضاحت اوراس کے اسلوب نگارش پر اس بات کی شہادت پیش کرتا ہے کہ وہ ایک ہی نور کی مختلف کرنیں ہیں۔ قرآن مجید کی ترکیبی پختگی اور کمال ِہدایت میں یک سمتی اوربلندی ٔتہذیب اس کے منزل من اللہ ہونے کی قوی دلیل ہونے کے ماسوا کچھ نہیں اورجب ہم کلماتِ قرآنیہ میں سے کسی آیت کے کلمہ مختلف فیہا کی قراء ات پر انتہائی گہری نظر ڈالتے ہیں تواسے دو حال سے خالی نہیں پاتے: ۱۔ الفاظ کی تبدیلی سے معنی ایک ہی رہتا ہے یا متقارب ہوتاہے، مثلاً ٭ لفظ الصِّرٰط:…اس کو صاد، سین اوراشمام کے ساتھ پڑھنے سے اس کے معنی میں کوئی