کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 86
میں سے ایک طبیعت، عادتوں میں سے ایک عادت اوراس کے گوشت پوست کاایک حصہ بن چکی ہوتی ہے، تو ایسی صورت میں اس لغت کو چھوڑ کر دوسری لغت اختیار کرنا آدمی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔اگر اللہ تعالیٰ اہل عرب کو ان کی زبان سے مختلف کسی دوسری زبان کا پابند بنادیتا، تواس پر ان کی زبانیں سیدھی نہ رہ سکتی تھیں اورنہ ہی یہ ممکن تھا کہ وہ اسے اپناسکیں،لہٰذا ان پر ایسی مشقت اورتکلیف نازل ہوتی،جو انسانی فطرت اوربشری قوت سے بالا تر ہوتی۔یہ مشقت اسلام کے بنیادی اُصول: جلب ِمنفعت ،اور دفعِ ضرر کے مخالف ہوتی۔ اللہ کی رحمت خاص بھی اس اُمت کے لیے آسانی اوردفع ِحرج کاتقاضا کرتی ہے، تاکہ کتاب اللہ کا حفظ، اس کے دستور کی اتباع اوراس کی تلاوت کو ممکنہ حد تک آسان بنایا جائے، تاکہ اس کی تلاوت سے ثواب اوراس میں موجود خزائن سے بطریق ِاحسن واَکمل فائدہ اٹھایا جاسکے، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو مختلف لغات ولہجات میں نازل فرمایا اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی عربوں پر انہی مختلف لہجات کے مطابق پڑھتے تھے، تاکہ ہر قبیلہ والوں پر ان کی لغت کے موافق لہجے کے مطابق تلاوت کرناآسان ہو۔ ۲۔ دو مختلف قراء توں سے دو مختلف حکموں کے مابین جمع کافائدہ: مثلاًاللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿فَاعْتَزِلُوْا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ وَلاَ تَقْرَبُوْہُنَّ حَتّٰی یَطْھُرْنَ﴾ (البقرۃ:۲۲۲) ’’ایام مخصوصہ میں اپنی بیویوں سے دور رہو، حتی کہ وہ پاک ہوجائیں۔‘‘ اس آیت میں لفظ یَطْھُرْن کو طاء کے سکون اورہاء کے ضمہ کے ساتھ بغیر تشدید پڑھا گیا ہے اور یہ الطُّھْرَسے ماخوذ ہے۔اس میں دوسری قراء ت باب تفعّل سے یَطَّہَّرْنَ ہے۔ یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ تشدید والی قراء ت عورتوں کے حیض سے طہارت میں مبالغہ پر دلالت کرتی ہے،کیونکہ حروف کی کثرت معنی کی زیادتی پردلالت کرتی ہے۔ ان دو قراء ات سے مندرجہ ذیل احکام اخذ ہوتے ہیں: