کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 76
سے کم حصہ نازل ہوا ۔‘‘ امام ابوشامہ رحمہ اللہ بعض شیوخ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’پہلے پہل قرآن مجید قریش اوران کے فصیح ترین عرب ہمسایوں کی لغت میں نازل ہوا۔ پھر اہل عرب کو اجازت دے دی گئی کہ وہ جن لغات کو اپنے معمول کے مطابق الفاظ اور اعراب میں استعمال کرتے ہیں، ان میں تلاوت کرلیاکریں۔ مشقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں کسی دوسری لغت کی طرف منتقل ہونے کاپابند نہیں کیا گیا تاکہ مرادِ الٰہی کو سمجھنے میں ان کی خاندانی حمیت وغیرت آڑے نہ آئے۔اپنی لغت کے مطابق پڑھنا اس وقت جائز تھا جب معنی میں تبدیلی واقع نہ ہوتی ہو اوروہ قراء ت منزل من اللہ ہو، نیزآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ہر اختلاف کی تصحیح فرمائی ہو۔‘‘ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ’فتح الباری‘ میں فرماتے ہیں: ’’اگر اس طرح کہا جائے تو اس بات کی تکمیل ہوسکتی ہے کہ مذکورہ اباحت (اِجازت) اپنی خواہش کے مطابق تبدیلی کا نام نہیں تھا، یعنی جس کلمہ کو چاہے اپنی لغت میں اس کے مترادف لفظ سے بدل لے،بلکہ یہ اجازت محض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع پرموقوف تھی۔ اس بات کی تائید سیدنا عمراور سیدنا ہشام رضی اللہ عنہما کے قول اور ((أَقْرَأَنِی النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم )) کے الفاظ سے بھی ہوتی ہے۔‘‘[1] دوسرا قول:… سبعۃ أَحرف بمعنی قراء ات ہماری رائے میں سبعہ احرف سے سات قراء ات مراد لینا سب سے بہتر قول ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ((أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ)) میں سبعۃ اَحرف کا معنی ’’ سبعہ قراء ات‘‘ ہے۔ [1] فتح الباری.