کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 73
ہر ایک کی قراء ت دوسرے سے مختلف ہے۔ مجھے بتائیے کہ میں کس کی قراء ت کے مطابق پڑھوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ آپ کی خاموشی دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں موجود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جوابا فرمایا: جیسے ہر انسان کو سکھایاگیا ہے وہ ویسے ہی پڑھے، یہی طریقہ اچھا اور خوبی والاہے۔ اسے امام طبری رحمہ اللہ اور امام طبرانی رحمہ اللہ نے نقل کیاہے۔‘‘[1] یہ تمام اَحادیث کثرت ِطرق اورمجموعی لحاظ سے حدیث سبعۃ أحرف کے تواتر پردلالت کرتی ہیں۔ حافظ ابویعلی الموصلی رحمہ اللہ نے ’مسندکبیر‘ میں یہ واقعہ نقل کیاہے: ’’ایک روز حضرت عثمان رضی اللہ عنہ منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جلوہ افروز ہوئے اورلوگوں کومخاطب کرکے فرمایا: میں تمہیں اللہ کاواسطہ دے کر کہتا ہوں کہ ہروہ شخص کھڑا ہوجائے جس نے حدیث ِسبعہ اَحرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست سنی ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ مجمع سے اس قدر لوگ اٹھ کھڑے ہوئے کہ ان کا شمار مشکل تھا۔ تب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں بھی اس بات پرگواہ ہوں کہ واقعتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ((إِنَّ ھٰذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلٰی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ، کُلُّھَا شَافٍ کَافٍ۔))[2] راوی کایہ کہنا: ’’ فقاموا حتی لم یحصوا‘‘ یعنی لوگوں کی ان گنت تعداد کھڑی ہوگئی،اس حدیث کے متواتر ہونے کی واضح دلیل ہے۔حفاظِ حدیث اور محدثین کرام کی ایک بہت بڑی جماعت بشمول امام ابوعبید قاسم بن سلام رحمہ اللہ اورامام حاکم رحمہ اللہ وغیرہ نے حدیث ِسبعۃ أحرف کو متواتر احادیث میں شمار کیا ہے۔ امام سیوطی رحمہ اللہ الاتقان میں فرماتے ہیں:’’حدیث: أنزل القرآن علی سبعۃ أحرف کو صحابہ کی ایک بڑی جماعت، جس میں مندرجہ ذیل ۲۱ صحابہ کرام شامل ہیں،نے نقل کیا ہے: [1] معجم الکبیر :۴۹۳۸. [2] سنن نسائی: ۹۴۱.