کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 68
حوالے سے امامِ نووی رحمہ اللہ شرح مسلم میں فرماتے ہیں: ’’اس کا معنی ہے کہ یہ دعائیں تو یقینی طور پر قبول کر لی گئیں ہیں، جب کہ دیگر دعاؤں کی قبولیت کی اُمید تو کی جا سکتی ہے، لیکن ان کی مقبولیت ضروری نہیں ہے۔‘‘[1] واضح رہے کہ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھی کی جس قراء ت پر انکار کیا تھا، وہ سورۃالنحل کی آیات تھیں، لیکن بہت کوشش کے باوجود ہمیں علم نہیں ہوسکا کہ وہ کون سی آیات تھیں۔ پانچویں حدیث (( عَنْ أُبَیٍّ رضی اللّٰه عنہ قَالَ لَقِیَ رَسُوْلُ اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم جِبْرَائِیْلَ فَقَالَ: یَا جِبْرَائِیْلُ! إِنِّیْ بُعِثْتُ إِلٰی أُمَّۃٍ أُمِّیِّیْنَ، فِیْہِمُ الْعُجُوْزُ وَالشَّیْخُ الْکَبِیْرُ وَالْغُلَامُ وَالْجَارِیَۃُ وَالرَّجُلُ الَّذِیْ لَمْ یَقْرَأْ کِتَابًا قَطُّ،قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلٰی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ۔رواہ الإمام أحمد فی مسندہ، والتِّرمِذِیُّ وقال ہذا حدیث حسن صحیح۔)) ’’سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جبرئیل علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ السلام سے کہا، میں تو اَن پڑھ لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیاہوں، ان میں غلام، لونڈیاں، بوڑھے ، کمزور اورایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے کبھی کتاب پڑھ کے نہیں دیکھی، تو جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد! قرآن سا ت لہجات میں نازل کیا گیا ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے نقل کیا ہے اورامام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن، صحیح ہے۔‘‘ [2] بعض اَلفاظ حدیث کی شرح: اُمّیین یہ اُمّی کی جمع ہے، اور اُمّی ایسے شخص کو کہتے ہیں جو پڑھ لکھ نہ سکتا ہوں۔ [1] شرح مسلم: ۶ -۳۴۴. [2] جامع ترمذی:۲۹۴۴.