کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 65
وَقْتَ کُنْتُ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ)) تو صحابی کے قول میں ’ما‘ سقط کا فاعل ہے اورمن التکذیبیہ جار مجرور مل کر فاعل ِ محذوف مَا اور اس کے بیان کے متعلق ہے اور ولا إذ میں واؤ عاطفہ ہے۔ ’لا‘ لم سے حاصل شدہ نفی کی تاکید کے لیے اور إذ ظرف زمان بمعنی فعل ماضی ہے اوراس کا معطوف علیہ وقتاً مقدر ہے۔ بعض روایات میں ہے: ((فَدَخَلَ فِیْ نَفْسِیْ مِنَ الشَّکِّ وَ التَّکْذِیْبِ أَشَدَّ مِمَّا کُنْتُ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ۔)) ’’ میرے دل میں ایسے شدید شک اورجھوٹ نے جنم لیا، جو دور جاہلیت میں بھی نہ تھا۔‘‘ امام نووی رحمہ اللہ اس جملہ کے معنی کے متعلق فرماتے ہیں: ’’شیطان نے میرے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بارے میں اس قدر سخت وسوسہ ڈالا جو کبھی جاہلیت میں بھی نہیں آیاتھا،کیونکہ قبل از اسلام تو محض غفلت یا شک تھا،لیکن اب شیطان نے گویا نبوت کا قطعی طور پر جھوٹا ہونے کا وسوسہ میرے دل میں ڈالا۔‘‘[1] اس بابت یہ عقیدہ رکھنا بھی ضروری ہے کہ حضرت ابی رضی اللہ عنہ کے دل میں شیطانی وسوسہ اوربہکاوا آیا تھا جو زیادہ دیرنہ چل سکا، کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قوت ایمانی کے سامنے اس قسم کے شبہات اور وساوس کی جتنی بھی آندھیاں آتیں تھیں صحابہ کرام کے مضبوط ایمان کے سامنے وہ اپنی شدت کھو دیتی تھیں۔یہ بات تو واضح ہے کہ شیطانی وساوس اور دل میں اٹھنے والے خیالات پر انسان کا مواخذہ اورمحاسبہ اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک وہ انہیں تسلیم نہ کرے یا ان شبہات کے مطابق عمل نہ کرلے، بلکہ اسے چاہئے کہ ان خیالات و شبہات کو اپنے دل و دماغ سے نکالنے کی کوشش کرے۔ [1] شرح مسلم: ۶ -۳۴۳.