کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 64
قرآن مجید پڑھائیے اورہر ہرمطالبہ کے عوض آپ کو ایک سوال(دعا)کرنے کی اجازت ہے۔ میں نے کہا کہ اے اللہ! میری اُمت کو معاف فرما دے، اے اللہ میری اُمت کو معاف فرما دے۔ تیسری دعا کو میں نے اس دن کے لیے محفوظ کر رکھاہے، جب تمام مخلوق بشمول ابراہیم علیہ السلام میری طرف پلٹیں گی۔ اس روایت کو امام مسلم رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے۔‘‘[1] اس حدیث کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں کہ تیسری دعا کو میں نے اپنی اُمت کی روزِ قیامت سفارش کے لیے مؤخر کررکھاہے۔ بعض الفاظ حدیث کی شرح: حدیث کے بعض طرق میں ہے کہ سیّدناابی رضی اللہ عنہ نے دونوں آدمیوں سے سوال کیاکہ تمہیں یہ قراء ت کس نے پڑھائی ہے؟ تو ان میں سے ہر ایک نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ چلو میرے ساتھ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلتے ہیں۔ تینوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کی قراء ت کی تحسین فرمائی۔ بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کے لیے ’’أَحْسَنْتَ‘‘ اور ’’أَصَبْتَ‘‘ یعنی تو نے اچھاکیا، تو نے سنت طریقہ کو پالیا، کے الفاظ استعمال کئے۔ مطلب یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختلاف ِقراء ت کے باوجود ہرایک کی قراء ت کو صحیح قرار دیا۔ تو میرے دل میں ایسا شبہ پیدا ہوا، جو کبھی جاہلیت کے دور میں بھی پیدا نہ ہوا تھا۔[2] جملہ: سَقَطَ فِیْ نَفْسِیْ مِنَ التَّکْذِیْبِ…الخ میں من التکذیب جار مجرور ہو کر متعلق ہے محذوف کلمہ ما کا، اور یہی کلمہ ما ،سقط فی نفسی کا فاعل ہے۔ مراد یہ ہے کہ ایساجھوٹ نہ تو ایام ِایمان میں اور نہ ہی دورِ جاہلیت میں میرے دل میں کبھی پیداہواتھا، چنانچہ اس جملہ کی اصل عبارت یوں ہے: (( فَسَقَطَ فِیْ نَفْسِیْ مِنَ التَّکْذِیْبِ مَا لَمْ یَحْصُلْ لِیْ وَقْتًا مَا، وَلَا [1] صحیح مسلم: ۸۲۰. [2] سنن نسائی: ۹۴۱.