کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 62
بعض الفاظ حدیث کی شرح: الأَضاۃ ہمزہ کے فتحہ اور حرف ضاد معجمہ کے ساتھ، اسم مقصور ہے۔ یہ لفظ رنگ بدلے ہوئے پانی کے لیے استعمال ہوتاہے، جو حوض وغیرہ میں جمع ہو۔اس کی جمع أَضاً آتی ہے، جیسے حصاۃ کی جمع حصاً آتی ہے۔اگر یہ لفظ ہمزہ کے زیر اورمد کے ساتھ یعنی إِضآء ہو تو اس کامعنی ٹیلہ کے ہوتے ہیں۔ أَضاۃ یہ مدینہ منورہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے اور بنی غفار کی طرف اس لیے منسوب ہے کہ وہ اس کے پاس رہتے تھے۔ قولہ: …((أیُّما قَرَئُوْا عَلَیْہِ فَقَدْ أَصَابُوْا۔)) کے حوالے سے امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے لیے جائز نہیں کہ وہ ان سات لہجات سے تجاوز کرے، ان کے لیے انہی سات لہجات میں اختیار ہے۔ انہی حدود میں رہتے ہوئے ان لہجات کو مابعد والوں تک پہنچانا ان کی ذمہ داری اوران پر واجب ہے۔ ‘‘[1] چوتھی حدیث: (( عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ رَضِیَ اللّٰه عَنْہُ قَالَ: کُنْتُ فِی الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ یُصَلِّیْ فَقَرَأَ قراءۃ أَنْکَرْتُہَا عَلَیْہِ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قراءۃ سِوٰی قراءۃ صَاحِبِہٖ۔ فَلَمَّا قَضَیْنَا الصَّلٰوۃَ دَخَلْنَا جَمِیْعًا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم فَقُلْتُ إِنَّ ہٰذَا قَرَأَ قراءۃ أَنْکَرْتُھَا عَلَیْہِ وَدَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ سِوٰی قراءۃ صَاحِبِہٖ، فَأَمَرَہُمَا رَسُوْلُ اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم فَقَرَئَا، فَحَسَّنَ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم شَأْنَہُمَا، فَسَقَطَ فِیْ نَفْسِیْ مِنَ التَّکْذِیْبِ وَلَا إِذْ کَانَتْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَلَمَّا رَاٰی رَسُوْلُ اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم مَا قَدْ غَشِیَنِیْ ضَرَبَ فِیْ صَدْرِیْ، فَفِضْتُ عَرَقًا،وَکَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَی اللّٰه فَرَقًا۔ فَقَالَ لِیْ: [1] شرح مسلم: ۶ -۳۴۴.