کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 61
بَنِیْ غَفَّارٍ، فَأَتَاہُ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَقَالَ: إِنَّ اللّٰه یَأْمُرُکَ أَنْ تُقْرِیَٔ أُمَّتَکَ الْقُرْآنَ عَلٰی حَرْفٍ فَقَالَ: أَسْأَلُ اللّٰه مُعَافَاتَہٗ وَمَغْفِرَتَہٗ وَإِنَّ أُمَّتِیْ لَا تُطِیْقُ ذٰلِکَ،ثُمَّ أَتَاہُ الثَّانِیَۃَ فَقَالَ:إِنَّ اللّٰه یَأْمُرُکَ أَنْ تُقْرِیَٔ أُمَّتَکَ الْقُرْآنَ عَلٰی حَرْفَیْنِ فَقَالَ:أَسْأَلُ اللّٰه مُعَافَاتَہٗ وَمَغْفِرَتَہٗ وَإِنَّ أُمَّتِیْ لَا تُطِیْقُ ذٰلِکَ، ثُمَّ جَآئَہُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ: إِنَّ اللّٰه یَأْمُرُکَ أَنْ تُقْرِیَٔ أُمَّتَکَ الْقُرْآنَ عَلٰی ثَلَاثَۃِ أَحْرُفٍ فَقَالَ: أَسْأَلُ اللّٰه مُعَافَاتَہٗ وَمَغْفِرَتَہٗ وَإِنَّ أُمَّتِیْ لَا تُطِیْقُ ذٰلِکَ، ثُمَّ جَآئَہُ الرَّابِعَۃَ فَقَالَ: إِنَّ اللّٰه یَأْمُرُکَ أَنْ تُقْرِیَٔ أُمَّتَکَ الْقُرْآنَ عَلٰی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ، فَأَیُّمَا حَرْفٍ قَرَئُوْا عَلَیْہِ فَقَدْ أَصَابُوْا۔))[1] ’’ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی غفار کے تالاب کے پاس موجود تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اورفرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حکم ِخداوندی ہے کہ اپنی اُمت کو ایک لہجہ پرقرآن مجید پڑھائیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ سے معافی ومغفرت کاطلب گارہوں، میری اُمت ایک لہجہ پرپڑھنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ پھر اللہ کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام دوسری مرتبہ تشریف لائے اورکہا کہ آپ اپنی اُمت کو دو لہجات پر پڑھائیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی بات دہرائی۔ جبرئیل علیہ السلام تیسری مرتبہ تشریف لائے اور کہا کہ آپ کے لیے اللہ کا حکم ہے کہ تین لہجات پر پڑھائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی بات دہرائی۔ جبرئیل علیہ السلام چوتھی مرتبہ آئے اور کہاکہ آپ اپنی امت کو سات لہجات میں پڑھائیے۔ ان میں سے جس کے مطابق وہ پڑھیں گے درستی کو پالیں گے۔‘‘ [1] صحیح مسلم: ۸۲۱.