کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 50
وَقُلْ رَحِمَ الرَّحمنُّ حَیًّا وَمَیِّتًا فَتًی کَانَ لِلإِنْصَافِ وَالْحِلْمِ مَعْقِلَا عَسَی اللّٰهُ یُدْنِیْ سَعْیَہُ بِجَوَازِہِ وَإِنْ کَانَ زَیْفاً غَیْرَ خَافٍ مُزَلَّلَا ’’اور اللہ تعالی نے اپنے فضل سے اس قصیدہ کی تکمیل کی توفیق بخشی جو نہایت عمدہ اور روشنی والا ہے۔یہ قصیدہ الحمد للہ مکمل ہواجو اپنی تخلیق میں نہایت سہل ہے، ہر اس بات سے پاک ہے جو زبان کے اعتبار سے ناشائستہ ہو۔اس قصیدے کے لئے مماثل نہ ملنے کی وجہ اور تو کچھ نہیں مگر اس کے ناظم کے گناہ ہیں، پس اے بہترین عادت کے مالک تو کوئی اچھی توجیہ اختیار کر ۔اور کہو کہ اللہ تعالی مہربان رحم فرمائے ہر اس جوان پر، خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ، جو انصاف وحلم کا قلعہ ہو۔امید ہے کہ اللہ تعالی ناظم کی مساعی کو اپنے انعام سے قریب فرمائے گا۔اگرچہ نظم واضح طور پر کھوٹی اور لغزشوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔‘‘ میں اللہ عزوجل کے حضور گڑگڑاتے ہوئے اپنی ہتھیلیاں بلند کرتا ہوں اور قبولیت کی امید سے دعا کرتاہوں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن کریم اور قراء ات قرآنیہ کی حفاظت فرمائے اور اپنے اس قول ﴿اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ﴾ (الحجر:۹)’’ہم نے اس ذکر کونازل کیاہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘ کو ثابت کردے۔اور قرآن مجید کو ہمارے حق میں حجت بنائے اور اسے ہمارے خلاف حجت نہ بنائے اور ہمارے اس عمل کو شرف قبولیت بخشے اور میری اس کاوش کومیرے لئے ، میرے والدین، اساتذہ اور تمام استفادہ کرنے والوں کے لئے اس دن کے لئے ذخیرہ بنادے کہ جس دن مال اور اولاد بھی کام نہ آئیں گے،سوائے اس کے جو اللہ کے ہاں قلب سلیم لے کر آئے۔