کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 47
تلقی بالقبول کی خصوصیات کے ساتھ پہنچی ہیں، وہ قراء عشرہ اور ان کے مشہور رواۃ کی قراء ات ہیں۔یہ قراء ات علماء کرام کے اقوال میں بھی ملتی ہیں اور انہی قراء ات پر شام، عراق، مصر اور حجاز میں آج لوگ متفق ہیں۔‘‘[1] پھرعلامہ ابن جزری رحمہ اللہ نے جمہور ائمہ اسلام جیسے امام ابو محمد حسن بن مسعود بغوی، امام ابوالعلاء حسن بن احمد ہمدانی، حافظ ابن الصلاح، امام ابن تیمیہ ، امام سبکی رحمہ اللہ اور ان کے بیٹے قاضی القضاۃ وغیرہ سے قراء ات عشرہ کے تواتر کونقل کیا ہے۔[2] علامہ عبدالفتاح القاضی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’جب آپ کو معلوم ہوگیا کہ قراء ات عشرہ متواتر ہیں، تو یہ جاننا بھی آپ پر لازم ہے کہ ان میں سے بعض قراء ات کے تواتر کوجمہور اہل علم جانتے ہیں اور بعض کے تواتر کوصرف ماہر قراء ہی جانتے ہیں،جو علوم قراء ات کے متخصص ہیں۔ عامۃ الناس ان کے تواتر سے آگاہ نہیں ہیں۔ پس پہلی قسم کی قراء ات کاانکار بالاتفاق کفر شمار کیا جائے گاجبکہ دوسری قسم کی قراء ات کاانکار اس وقت کفر شمار ہوگا جب دلائل واضح اور صحت قائم ہوجانے کے بعد بھی کوئی اپنے انکار پرمصر رہے۔‘‘[3] جب یہ بات واضح ہو گئی کہ دین اسلام قراء ات متواترہ پر طعن کا انکار کرتا ہے اور ہم بعض لوگوں کو طعن کرتے ہوئے دیکھتے بھی ہیں، لہٰذا اس صورتحال میں ہمارا کیارویہ ہوناچاہئے؟ [1] منجد المقرئین: ۱۵، ۲۳. [2] منجد المقرئین: ۴۶ اور اس کے مابعد. [3] دیکھیں: شیخ عبد الفتاح القاضی کی کتاب ’’القراء ات فی نظر المستشرقین والملحدین:۹۲، ۹۶، اور انہی کی کتاب ’’ ابحاث فی قراء ات القرآن الکریم:۲۵، ۲۷.