کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 44
نکالی جانے والی غلطیاں۔‘‘ کے نام سے ایک عنوان قائم کرتے ہیں، پھر وہ قراء سبعہ میں سے ہرقاری کا ذکر کرتے ہوئے اس کی قراء ت میں سے جس قدر غلطیاں نکالی گئیں ہیں ان کے اعدادوشمار پیش کرتے ہیں۔ان اعداد وشمار کاخلاصہ درج ذیل ہے۔ (مقدمۃ دراسات لاسلوب القرآن الکریم ص:۳۴جزء اول، قسم اول) ۱۔ امام نافع رحمہ اللہ ( متوفی ۱۶۹ھ )کی قراء ت:اس میں بارہ ۱۲مقامات پر غلطیوں کا دعوی کیا گیا ہے ۔(المقدمۃ:/ ۳۹ ، اور اس کے مابعد) ۲۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ ( متوفی ۱۲۰ھ) کی قراء ت: اس میں ۹ مقامات پرغلطیوں کا دعویٰ کیاگیاہے۔( المقدمۃ:/ ۳۶ ، اور اس کے مابعد) ۳۔ امام ابوعمرو رحمہ اللہ (متوفی ۱۵۴ھ) کی قراء ت : اس میں۷ مقامات پرغلطیوں کا دعوی کیا گیا ہے ۔( المقدمۃ:۱/ ۳۸ ، اور اس کے مابعد) ۴۔ امام ابن عامر رحمہ اللہ (متوفی ۱۱۸ھ) کی قراء ت: اس میں۱۸ مقامات پر غلطیوں کا دعوی کیا گیا ہے ۔( المقدمۃ:1/ ۳۴ ، اور اس کے مابعد) ۵۔ امام عاصم رحمہ اللہ ( متوفی ۱۲۷ھ)کی قراء ت:اس میں۷مقامات پر غلطیوں کا دعوی کیا گیا ہے۔( المقدمۃ:۱/ ۴۰، اور اس کے مابعد) ۶۔ امام حمزۃ رحمہ اللہ ( متوفی ۱۵۰ ھ) کی قراء ت :اس میں ۱۵ مقامات پر غلطیوں کا دعوی کیا گیا ہے ۔( المقدمۃ:۱/ ۴۲، اور اس کے مابعد) ۷۔ امام کسائی رحمہ اللہ ( متوفی ۱۸۰ ھ) کی قراء ت: اس میں ۱۱ مقامات پر غلطیوں کا دعوی کیا گیا ہے ۔( المقدمۃ:۱/ ۴۱ ، اور اس کے مابعد) یہ تو صرف قراء ا ت سبعہ پر کئے جانے والے اعتراضات کے چند نمونے ہیں۔ دیگر قراء ات، خواہ وہ قراء ا ت عشرہ ہوں، قراء ات اربعہ عشر ہو یا ان کے علاوہ ہوں ان میں جوطعن کیاگیا ہے، اس کاکیاحال ہوگا۔[1] [1] نظریۃ النحو القرآنی: للدکتور احمد مکی الانصاری:۱۴۵.