کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 31
مصاحف کی کتابت کا حکم دیا تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے ان مصاحف کو عرضہ أخیرہ کے مطابق لکھا؛ یعنی آخری بار جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل ؑ کو اپنی وفات والے سال قرآن سنایا تھا۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک ایک مصحف مکہ ، شام، کوفہ اور بصرہ بھیجا۔ ایک مصحف مدینہ والوں کے لئے رکھ لیا اور ایک مصحف اپنے پاس ذاتی تلاوت کے لئے رکھ لیا، جسے انہوں نے مصحف امام کا نام دیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان تمام مصاحف کے ساتھ ایک ایک قاری بھی بھیجا، جو اس شہر والوں کو اس مصحف کے رسم کے مطابق صحیح اور متواتر قراء ات کی تعلیم دیتا تھا۔آپ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اہل مدینہ کو مدنی مصحف کے مطابق قرآن پڑھائیں۔ عبداللہ بن السائب کو مکہ بھیجا گیا۔ مغیرہ بن ابی شہاب کو شام، ابوعبدالرحمن السلمی کو کوفہ اور حضرت عامر بن عبد قیس کو بصری مصحف کے ساتھ بصرہ روانہ کیا ۔ ان شہروں میں اس وقت تابعین میں سے حفاظِ قرآن کریم کا ایک جم غفیر موجودتھا۔ ہر شہر کے لوگوں نے اپنے شہر کے تیار کردہ مصحف کے مطابق مذکورہ بالا قراء سے قرآن پڑھا اور اپنے شہر کے مصحف کی تمام قراء ات کو صحابہ سے نقل کیا، وہ قراء ات جو صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لی تھیں۔[1] یہ بات اہم ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مصاحف کے لکھنے اور ان کو مختلف اسلامی شہروں کی طرف بھیجنے کی جو مہم چلائی تھی اس کا مقصد قرآن کی ایک نص پر لوگوں کواکٹھا کرنا نہیں تھا[2] بلکہ اس سے مطلوب صرف یہ تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ متواتر قراء ات کو جمع کر دیا جائے اور جو قراء ات شروع میں امت کی آسانی کے لئے نازل کی گئی [1] تنبیہ الخلان الی شرح الاعلان بتکمیل مورد الظمآن:للعلامۃ ابراھیم بن احمد المارغنی التونسی ص:۴۴۹، وسمیر الطالبین:للشیخ علی محمد الضباع ص:۱۶. [2] جیسا کہ گولڈ زیہر کا دعوی ہے دیکھیں: القراء ات فی نظر المستشرقین: للشیخ عبدالفتاح القاضی ص:۱۹.