کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 15
بلکہ اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول نہیں ہیں بلکہ انہوں نے نبوت اور رسالت کا جھوٹا دعوی کیا ہے۔ وہ قرآن میں وہی بیان کرتے ہیں جو ان کی خواہش اور پسند ہو تی ہے۔ انہوں نے قرآن مجید میں توراۃ وانجیل سمیت سابقہ کتب سے اقتباسات لئے ہیں۔ لہٰذا دین اسلام نصرانیت ہی کی محرف شدہ شکل ہے۔(نعوذ باللّٰه من ذلک۔) مستشرقین نے ان گمراہ کن افکار ونظریات کو پھیلانے میں روافض اور باطنیہ جیسے گمراہ فرقوں کے عقائد سے مدد لی ہے، کیونکہ ان فرقوں کا عقیدہ ہے کہ اس وقت ہمارے پاس موجود قرآن مجید وہ قرآن نہیں ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا تھا۔ بلکہ یہ قرآن وہ ہے جسے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے جمع فرمایا تھا اور اس میں سے جو چاہا ساقط کر دیا۔ امام ابو بکر محمد بن قاسم الانباری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’علمائے امت ہمیشہ سے قرآن مجید کے مقام ومرتبے اور عزت وشرف کا دفاع کرتے چلے آئے ہیں۔اب ہمارے زمانے میں آ کر یہ گمراہ شخص پیدا ہو گیا ہے جو ملت سے خارج ہے، امت پر حملہ آورہے اور شریعت کو باطل کرنا چاہتا ہے۔اس کا وہم ہے کہ جو مصحف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جمع فرمایا تھا وہ مکمل قرآن مجید پر مشتمل نہیں تھا، کیونکہ انہوں نے اس میں سے پانچ سو حروف ساقط کر دئیے تھے۔(حالانکہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس کے درست ہونے پر اتفاق تھا)‘‘ امام ابن الانباری رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں: ’’یہ زندیق شخص قرآن مجید کی آیات میں کمی بیشی کر کے پڑھتا تھا ، مثلا سورۃ آل عمران کی ایک آیت کو یوں پڑھتا تھا: ((وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ بِسَیْفِ عَلِیٍّ وَ اَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ)) (آل عمران:۱۲۳) [1] اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ حسین النوری الطبرسی رافضی نے ’’فصل الخطاب فی [1] القرطبی:۱۸۲.