کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 149
خلاصہ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ جب قراء ات آحادیہ کی سند صحیح ہو، لغت عرب کے موافق ہو، رسم کے موافق ہو یا مخالف ہو تو وہ مقبول ہے۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ سو وہ قراء ت جس کی سند صحیح ہو یا ضعیف ہو، لیکن لغت عرب میں اس کی کوئی وجہ نہ ہو، اگرچہ وہ رسم کے موافق ہی کیوں نہ ہو اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ و اللہ اعلم ۴۔ قراء ات شاذہ: لفظ شذوذ (ش ذ ذ) کے مادہ سے مشتق ہے، جس کا معنی ’’ندرت، انفرادیت اور خلاف اصل شے‘‘ ہے۔ اسی سے اہل عرب کا قول ہے: ’’شذا رجل‘‘ آدمی اپنے ساتھیوں سے الگ ہو گیا۔‘‘ اسی طرح کہا جاتا ہے: ’’شذ عنہم‘‘ ’’وہ جمہور سے الگ ہو گیا۔‘‘ اصطلاحی طور پر شاذ سے مراد وہ قراء ت ہے جس کی سند صحیح نہ ہو، یا وہ رسم کے مخالف ہو یا لغت عرب میں اس کی کوئی وجہ نہ ہو۔[1] مثال:… قراء ت شاذہ کی مثال ابن السمیفع اور ابو السمال کی قراء ت ہے جو آیت مبارکہ ﴿فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدِنَکَ﴾ کی جگہ ﴿فَالْیَوْمَ نُنَحِّیْکَ بِبَدَنِکَ﴾ بالحاء پڑھتے ہیں۔ اس نوع کی بھی بطور عبادت تلاوت نہیں کی جا سکتی ہے، کیونکہ یہ کسی معتبر طریق سے ہم تک نہیں پہنچتی ہے۔ ۵۔ قراء ات مدرجہ: لفظ ’’إدراج‘‘ (درج) کے مادہ سے مشتق ہے، جس کا لغوی معنی ’’دخول‘‘ ہے۔ اسی سے اہل عرب کا قول ہے: ’’أَدْرَجْتُ الشَّیْئَ فِی الشَّیْئِ‘‘ میں نے ایک شے کو دوسری شے میں داخل کر دیا اور انہیں ملا دیا۔‘‘ اصطلاحی طور پر ادراج سے مراد وہ عبارت ہے جو کلمات قرآنیہ کے درمیان بطور تفسیر زیادہ کر دی گئی تھی۔ بالفاظ دیگر وہ عبارت جو قراء ات قرآنیہ میں بطور تفسیر زیادہ کر دی گئی تھی۔[2] [1] الاتقان: ۱-۲۴۲. [2] الاتقان: ۱-۲۴۳.