کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 148
مثال:… اس نوع کی مثال ﴿مَا اَشْہَدْتُّہُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ﴾ کی جگہ ﴿مَآ اَشْہَدْنَاہُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ﴾ پڑھنا ہے۔ اسی طرح ﴿وَ مَا کُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا﴾ کی جگہ ﴿و ما کنتَ﴾ تاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھنا ہے۔ یہ دونوں قراء ات امام ابو جعفر مدنی کی ہیں۔ یہ نوع بھی بالاتفاق قرآن ہے۔ ۳۔ قراء ات آحادیہ: آحاد، احد کی جمع ہے جو (و ح د) کے مادہ سے مشتق ہے۔ اس کا لغوی معنی ’’وحدت اور انفرادیت‘‘ ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ﴿قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ﴾ [الاخلاص: ۱] ’’کہہ دو! اللہ ایک ہے۔‘‘ اصطلاحی طور پر قراء ات آحادیہ سے مراد وہ قراء ات ہیں جن کی سند صحیح ہو۔ وہ رسم مصاحف یا لغت عرب یا ان دونوں کے مخالف ہوں اور وہ قراء ات مشہور کی طرح مشہور نہ ہوں۔ مثال:… صحیح سند اور رسم کی مخالف قراء ت کی مثال جحدری اور ابن محیصن کی یہ قراء ت ﴿مُتَّکِئِیْنَ عَلٰی رَفَارِفَ خُضْرٍ وَ عَبَاقَرِیٍّ حِسَانٍ﴾ ہے۔[1] صحیح سند اور لغت عرب کی مخالف قراء ت کی مثال ’’وَ لَقَدْ مَکَّنَّاکُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَکُمْ فِیْہَا مَعَائِشَ‘‘ بالہمزۃ ہے۔[2] صحیح سند اور غیر مشہور قراء ت کی مثال ﴿لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفَسِکُمْ﴾ ف کے فتحہ کے ساتھ والی قراء ت ہے۔[3] مذکورہ تینوں انواع کو بطور قرآن نہیں پڑھا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ان کے بارے میں یہ احتمال باقی ہے کہ یہ عرضہ اخیرہ میں یا مصاحف عثمانیہ میں باجماع صحابہ منسوخ کر دی گئی ہوں۔ صحیح سند اور لغت عرب کے موافق، لیکن رسم کے مخالف قراء ت کی مثال ﴿وَ الذَّکَرِ وَ الْاُنْثٰی﴾ اور ﴿وَ کَانَ اَمَامَہٗ مَلِکٌ یَاْخُذُ کُلَّ سَفِیْنَۃٍ صَالِحَۃٍ غَصْبًا﴾ ہے۔[4] [1] مختصر فی شواذ القرآن: ۱۵۰. [2] مختصر شواذ القرآن: ۴۲. [3] مختصر فی شواذ القرآن: ۵۶. [4] النشر: ۱/۱۴.