کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 147
مجہول شاعر کے شعروں سے زیادہ اوثق ہیں۔ ۲… سند کے اعتبار سے قراء ات کی اقسام سند کے اعتبار سے قراء ات کی درج ذیل چھ اقسام ہیں: متواترہ مشہورہ آحادیہ شاذہ مدرجہ موضوعہ ان کی تفصیل درج ذیل ہے: ۱۔ قراء ات متواترہ: تواتر کا لغوی معنی ’’پے درپے آنا‘‘ ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ﴿ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا﴾ [المومنون: ۴۴] ’’پھر ہم نے پے در پے رسول بھیجے۔‘‘ عربی کا محاورہ ہے ’’جَائَ تِ الْخَیْلُ تَتْرًا‘‘ گھوڑے مسلسل آئے۔‘‘ اصطلاحی طور پر تواتر سے مراد وہ قراء ت ہے جسے ابتدا سے لے کر انتہا تک اتنی بڑی جماعت نے نقل کیا ہو جن کا جھوٹ پر متفق ہونا محال ہو۔[1] قرآن مجید کی اکثر قراء ات اسی نوع سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ نوع بالاتفاق قرآن ہے، جیسا کہ پہلے گزرا ہے۔ ۲۔ قراء ات مشہورہ: شہرت کا لغوی معنی ’’ظہور و وضاحت‘‘ ہے اور مشہورہ کا لغوی معنی ’’ظاہرہ اور واضحہ‘‘ ہے۔ یہ (ش ھ ر) کے مادہ سے اسم مفعول مشتق ہے۔ اسی سے قول ہے: ’’فلان من الشہرۃ بمکان ۔‘‘ یعنی وہ واضح ہونے میں جھنڈے کی مانند ہے۔‘‘ اصطلاحی طور پر مشہورہ سے مراد وہ قراء ت ہے جس کی سند صحیح ہو اور تواتر کے درجے کو نہ پہنچتی ہو، رسم اور لغت کے موافق ہو۔ قراء کرام کے ہاں مشہور ہو او روہ اسے غلط یا شاذ میں سے شمار نہ کرتے ہوں۔[2] [1] الاتقان: ۱-۲۴۱. [2] الاتقان: ۱-۲۴۲.