کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 146
مصاحف عثمانیہ کے رسم کے مخالف قراء ت کی مثال: اس کی مثال سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراء ت ہے جو ﴿اِنْ کَانَتْ اِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً﴾ کی جگہ ﴿اِنْ کَانَتْ اِلَّا زَقِیَّۃً وَّاحِدَۃً﴾ پڑھتے تھے۔[1] لغت عرب کے مخالف قراء ت کی مثال: اس کی مثال وہ قراء ت ہے جو ابن بکار عن ایوب عن یحیی عن ابن عامر سورۃ الانبیاء کی آیت مبارکہ ﴿وَ إِنْ أَدْرِیْ أَقَرِیْبٌ﴾ میں ﴿أَدْرِیَ اَقَرِیْبٌ﴾ یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھتے ہیں۔[2] معنوی طور پر مردود قراء ت کی مثال: اس کی مثال وہ قراء ت ہے جو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے کہ وہ ﴿اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَائُ﴾ لفظ اللہ کے ضمہ کے ساتھ پڑھتے تھے۔ کیونکہ یہ مراد کے خلاف ہے۔ بے شک علماء کرام ہی اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔ (۳) قراء ت مردودہ کی اقسام: قراء ت مردودہ کے ضوابط بیان کرنے کے بعد یہاں ہم اختصار کے ساتھ قراء ت مردودہ کی اقسام بیان کرنا چاہتے ہیں۔ قراء ات مردودہ کی اقسام میں قراء ات آحادیہ، جن کی لغت عرب میں کوئی وجہ نہ ہو، قراء ات شاذہ، قراء ات مدرجہ اور قراء ات موضوعہ شامل ہیں۔ ان تمام انواع کی تعریف آگے آ رہی ہے۔ (۴) قراء ات مردودہ کا حکم: قراء ت مردودہ کو قرآن شمار نہیں کیا جائے گا، صحیح رائے کے مطابق بطور عبادت نماز و غیر نماز میں ان کی تلاوت نہیں کی جائے گی۔ جمہور اہل علم کی رائے کے مطابق نصوص کی تفسیر، استنباط احکام اور ان کے مدلول پر عمل کرنے کے حوالے سے انہیں قبول کیا جائے گا، بشرطیکہ سنداً مقبول ہوں۔ اسی طرح انہیں لغوی مسائل میں بطور شواہد پیش کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ [1] مختصر فی شواذ القرآن لابن خالویہ: ۱۲۵. [2] النشر: ۱/۱۶.