کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 145
کے منکر کی تکفیر کی جائے گی۔ جبکہ قراء ات آحادیہ، جو لغت عرب کے موافق ہوں، ان کی سند صحیح ہو اور ان میں علت و شذوذ اور رسم کی مخالفت نہ پائی جاتی ہو تو وہ بھی قراء ات مقبولہ ہیں، لیکن ان کی قراء ت نہیں کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ ایک تو وہ آحادیہ ہیں، مجمع علیہ امر کے مخالف ہیں اور ان کی صحت قطعی نہیں ہے۔ ان کے منکر کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔[1] اس کی مثالیں آپ ’’سند کے اعتبار سے قراء ات کی اقسام‘‘ میں آگے دیکھیں گے۔ ۲۔ قراء ات مردودہ: قراء ات مقبولہ کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد اب ہم قراء ات مردودہ کی تعریف، ضوابط، اقسام اور حکم کو بیان کریں گے۔ (۱)قراء ت مردودہ کی تعریف: قراء ت مردودہ سے مراد ہر وہ قراء ت ہے جس میں قراء ت مقبولہ کے تینوں ارکان میں سے کوئی ایک رکن مفقود ہو۔ (۲) قراء ت مردودہ کے ضوابط: قراء ت مردودہ کے ضوابط قراء ت مقبولہ کے تینوں ضوابط کے برعکس ہیں: ۱… ضابط السند: ہر وہ قراء ت جس کی سند صحیح نہ ہو وہ قراء ت مردودہ ہے، کیونکہ اس میں صحت سند کی شرط مفقود ہے۔ مثال:… اس کی مثال سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی قراء ت ہے، وہ ﴿مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ﴾ کو ﴿مَلَکَ یَوْمَ الدِّیْنِ﴾ پڑھتے تھے۔[2] ۲… ضابط المتن: ہر وہ قراء ت جو مصاحف عثمانیہ کے رسم یا لغت عرب کی وجوہ کے مخالف ہو یا اس کا معنی قراء ات مقبولہ کے معنی کے معارض ہو تو وہ قراء ت مردودہ ہے۔ [1] النشر: ۱/۱۴. [2] مختصر فی شواذ القرآن لابن خالویۃ: ۷.