کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 142
ہیں۔ اگر کسی قراء ت میں ان میں سے کوئی ایک بھی رکن نہ پایا جائے تو وہ شاذ ہوگی، اگرچہ وہ معروف سبعہ قراء ات میں سے ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (۲) قراء ت مقبولہ کے ضوابط: اہل علم نے قراء ات مقبولہ کے لیے کچھ ضوابط اور معیار مقرر کیے ہیں تاکہ قراء ات مقبولہ دیگر قراء ات سے ممتاز ہو سکیں۔ میرے علم کے مطابق سب سے پہلے جس نے قراء ات مقبولہ کے ضوابط پر گفتگو کی ہے، وہ امام ابن مجاہد رحمہ اللہ (ت ۳۲۴ھ) ہیں۔ ان کے بعد امام ابن خالویہ رحمہ اللہ (ت ۳۷۰ھ)، امام مکی بن ابی طالب رحمہ اللہ (ت ۴۳۷ھ)، امام ابو شامہ رحمہ اللہ (ت ۶۶۵ھ) اور امام الکواشی رحمہ اللہ نے اس موضوع پر قلم اٹھایا اور سب سے آخر میں علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ (ت ۸۳۳ھ) نے ضوابط کو مقرر کیا ہے۔ علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ کے بعد انہی ( ابن الجزری) کے مقرر کردہ ضوابط پر عمل چلا آ رہا ہے۔ قراء ات مقبولہ کے لیے اہل علم کے مقرر کردہ ضوابط کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر تین ضوابط میں منحصر ہیں: ضابط السند، ضابط الرسم اور ضابط العربیہ۔ ۱… ضابط السند: قبول قراء ت کے لیے علماء قراء ات نے یہ شرط لگائی ہے کہ وہ قراء ت صحیح سند سے ثابت ہو اور یہ شرط سب سے اہم ترین شرط ہے۔ جب کوئی قراء ت صحیح سند سے ثابت ہو گی تو تب ہی اس کے لیے دیگر شرائط کو دیکھا جائے گا۔ بعض اہل علم نے صحت سند کے لیے تواتر کی شرط لگائی ہے، بعض نے تواتر یا مشہور کی شرط لگائی اور بعض نے تواتر، مشہور یا آحاد کی شرط لگائی ہے۔ مجھے تواتر کی شرط والا قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔[1] ۲… ضابط الرسم: قبول قراء ت کی دوسری شرط یہ ہے کہ وہ قراء ت مصاحف عثمانیہ میں سے کسی ایک مصحف کے رسم کے موافق ہو، خواہ احتمالاً ہی ہو۔ کیونکہ یہ موافقت [1] النشر: ۱ -۱۳.