کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 135
’’جان لیجیے کہ قراء ات قرآنیہ کا اختلاف یا تو شیخ کی طرف منسوب ہو گا جیسے امام نافع، یا راوی کی طرف منسوب ہو گا جیسے امام قالون۔ یا راوی کے راوی کی طرف منسوب ہو گا خواہ نیچے تک ہو۔ جیسے ابو نشیط عن قالون اور القزاز عن ابی نشیط،یا ان کے علاوہ ہو گا۔ اگر مکمل اختلاف شیخ کی طرف منسوب ہو، یعنی اس پر تمام روایات و طرق متفق ہوں، تو وہ قراء ۃ ہے۔ اور اگر راوی کی طرف منسوب ہو، تو وہ روایت ہے اور اگر نیچے تک راوی کے راوی کی طرف منسوب ہو، تو وہ طریق ہے۔ اور جو اختلاف اس کے علاوہ ہو، اور قاری کا اختیار ہو، وہ وجہ ہے ۔‘‘ ۷… اختیار کی تعریف لغوی تعریف لفظ اختیار (خ ی ر) کے مادہ سے مشتق ہے اور لغوی طور پر فضیلت اور پسندیدگی کے معانی پر دلالت کرتا ہے۔ اصطلاحی تعریف اہل فن کے ہاں اختیار سے مراد وہ وجہ یا صورت ہے،جسے قاری اپنی مرویات میں سے، یا راوی اپنی مسموعات میں سے یا راوی کا راوی اپنے محفوظات میں سے اختیار کر لیتا ہے۔ اور ان تینوں ( قاری، راوی اور راوی کے راوی) میں سے ہر ایک اپنے اپنے اختیار میں مجتہد ہے۔ دکتور عبد الھادی الفضلی اختیار کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ((اِنَّہُ الْحَرْفُ الَّذِیْ یَخْتَارُہُ الْقَارِیُٔ مِنْ بَیْنِ مَرْوِیَّاتِہٖ مُجْتَہِدًا فِی اخْتِیَارِہٖ)) [1] ’’اختیار سے مراد وہ حرف ہے جسے قاری اجتہاد کرتے ہوئے اپنی مرویات میں سے پسند کرلیتا ہے۔‘‘ [1] القراء ات القرآنیۃ: ۱۰۵.