کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 130
اصطلاحی تعریف ائمہ فن نے علم قراء ات کی متعدد تعاریف نقل کی ہیں: مثلاً ۱۔ امام زرکشی (ت ۷۹۴ھ) فرماتے ہیں: (( ھِیَ اخْتِلَافُ أَلْفَاظِ الْوَحْيِ الْمَذْکُوْرِ فِيْ کِتْبَۃِ الْحُرُوْفِ أَوْ کَیْفِیَّتِھَا مِنْ تَخْفِیْفٍ وَ تَثْقِیْلٍ وَغَیْرِھِمَا)) [1] ’’قراء ات سے مراد الفاظِ وحی کا وہ اختلاف ہے ، جو تخفیف و تشدید کے اعتبار سے حروف کی کتابت یا کیفیت (ادائیگی) کے بارے میں مذکور ہے۔‘‘ ۲۔ محقق، علامہ ابن الجزری صلی اللہ علیہ وسلم (ت:۸۳۳ھ) فرماتے ہیں: ((الْقِرَائَ اتُ عِلْمٌ بِکَیْفِیَّۃِ أَدَائِ کَلِمَاتِ الْقُرْآنِ وَاخْتِلَافِھَا مَعْزُوًّا لِنَاقِلِہٖ))[2] ’’کلمات قرآنیہ کی ادائیگی کی کیفیت اور ناقلین ( ائمہ قراء ات ) کی طرف منسوب اختلاف کو جاننے کا نام علم قراء ات ہے۔‘‘ ۳۔ امام قسطلانی رحمہ اللہ (ت:۹۲۳ھ) رقمطراز ہیں: ((ھُوَ عِلْمٌ یُعْرَفُ مِنْہُ اتِّفَاقُ النَّاقِلِیْنَ لِکِتَابِ اللّٰه وَ اخْتِلَافُھُمْ فِی اللُّغَۃِ وَ الْاِعْرَابِ وَالْحَذْفِ وَ الْاِثْبَاتِ، وَ التَّحْرِیْکِ وَ الْاِسْکَانِ، وَ الْفَصْلِ وَ الْاِتِّصَالِ، وَ غَیْرِ ذَالِکَ مِنْ ھَیْئَۃِ النُّطْقِ وَ الْاِبْدَالِ مِنْ حَیْثُ السِّمَاعِ)) [3] ’’علم قراء ات وہ علم ہے جس کے ذریعہ کتاب الله میں سماع سے ثابت فصل و وصل، تحریک و اسکان، حذف و اثبات اور لغت و اعراب جیسی نطقی کیفیات کو نقل کرنے والوں کے اتفاق و اختلاف کا علم ہو جاتا ہے۔‘‘ [1] البرھان: ۱-۳۱۸. [2] منجد المقرئین: ۳. [3] لطائف الاشارات: ۱ -۱۷۰.