کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 129
ہوں گی۔ چنانچہ انہوں نے ایسے ائمہ کو تلاش کیا جو نقل میں امانت دار، ثقاہت میں مشہور، دین دار اور علم میں کمال رکھتے ہوں۔ ان کی عمر لمبی ہو اور ان کے شہر والوں نے ان کی منقولات، مقروئات اور مرویات میں ان کی عدالت پر اجماع کیا ہو اور ان کی قراء ت اس شہر کی طرف منسوب مصحف سے خارج نہ ہو۔ چنانچہ انہوں نے ہر شہر سے ان صفات کے حامل قراء کرام کو منتخب کیا … اگرچہ لوگوں نے دیگر ائمہ قراء ات کے اختلافات کو ترک نہیں کیا … اور سب سے پہلے جس نے ان قراء سبعہ پر اکتفا کیا وہ امام ابوبکر بن مجاہد ہیں۔‘‘[1] خلاصہ کلام یہ ہے کہ معروف قراء ات سبعہ، سبعہ احرف کا ایک جزء ہیں، مکمل سبعہ احرف نہیں ہیں اور احرف سبعہ کے بارے میں پہلے ہی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ ۳… قراء ات کی تعریف لفظِ قراء ات ، قراء ۃ کی جمع ہے ، اور قراء ۃ قَرَأَ ، یَقْرَؤُہٗ، وَ یَقْرُؤُہٗ، کے مصادر ثلاثہ (قَرْئًا ، وَ قِرَائَ ۃً وَ قُرْئَ ا نًا) میں سے ایک ہے۔ یہ مادہ ( ق ر أ) لغوی طور پر متعدد معانی پر دلالت کرتا ہے۔ مثلاً: ۱۔ الجمع والضم= جمع کرنا اور باہم ملانا۔اسی سے عربی محاورہ ہے ’’مَا قَرَأَتْ ہٰذِہِ النَّاقَۃُ سَلِيَّ قَطُّ۔‘‘ ’’اس اونٹنی کے رحم نے کبھی حمل کو جمع نہیں کیا۔‘‘پہلے قرآن کی تعریف میں تفصیل گزر چکی ہے۔ ۲۔ التلاوۃ= مکتوب کو پڑھنا یا تلاوت کرنا۔ جیسے کہا جاتا ہے :(قَرَأْتُ الْقُرْآنَ) میں نے قرآن مجید کو پڑھا اور اس کی تلاوت کی۔تلاوت کو اس لئے قراء ت کہا جاتا ہے کیونکہ تلاوت کلمات کی تشکیل کے لئے حروف کی آوازوں کو ذہن میں جمع کرتی ہے۔[2] [1] الإبانۃ: ۹۷، ۹۹. [2] لسان العرب مادہ(ق ر أ)، المعجم الوسیط، مادہ(ق ر أ)، معجم الفاظ القرآن الکریم، مادہ(ق ر أ).