کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 120
سورۂ قیامہ میں دو مرتبہ اسی معنی میں وارد ہوا ہے۔‘‘ نیز سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا مرثیہ کہتے ہوئے لفظ ’’قرآن‘‘ کو ’’قراءۃ‘‘کے معنی میں استعمال کیا ہے: ضَحُّوْا بِأَشْمَطَ عُنْوَانَ السُّجُوْدِ بِہٖ یَقْطَعُ اللَّیْلَ تَسْبِیْحًا وَ قُرْآنًا ’’ان (دشمنوں نے) سیاہ و سفید بالوں والے اس عظیم انسان کو شہید کر ڈالا، پیشانی کو سجدہ ریز کرنا جس کی پہچان تھی اور ساری رات وہ تسبیح کرتے ہوئے اور قراء ت کرتے ہوئے گزارا کرتا تھا۔‘‘ قرآن کی اصطلاحی تعریف: اہل علم نے قرآن مجید کی متعدد اصطلاحی تعریفات بیان کی ہیں۔ شاید ان میں سے سب سے زیادہ صحیح تعریف یہ ہے: ((ہُوَ کَلَامُ اللّٰہِ تَعَالٰی الْمُعْجِزُ الْمُنَزَّلُ بِوَاسِطَۃِ جِبْرِیْلَ علیہ السلام عَلٰی مُحَمَّدٍ صلي اللّٰه عليه وسلم الْمَحْفُوْظُ فِی الصُّدُوْرِ، الْمَکْتُوْبُ فِی الْمَصَاحِفِ، الْمَنْقُوْلُ بِالتَّوَاتُرِ، الْمُتَعَبَّدُ بِتِلَاوَتِہٖ، الْمَبْدُوْئُ بِسُوْرَۃِ الْفَاتِحَۃِ، الْمَخْتُوْمُ بِسُوْرَۃِ النَّاسِ۔))[1] ’’قرآن مجید اللہ تعالی کی وہ معجز کلام ہے جو سیدنا جبریل علیہ السلام کے واسطے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی ہے۔ وہ سینوں میں محفوظ ہے، مصاحف میں لکھی ہوئی ہے، تواتر سے منقول ہے،اس کی تلاوت عبادت ہے، وہ سورۃ الفاتحہ سے شروع ہوتی ہے اور سورۃ الناس پر ختم ہوتی ہے۔‘‘ یہ تعریف قرآن مجید کی حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ قرآن مجید اللہ کی کلام ہے، جسے سیدنا جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا ہے اور اس کے نزول کا مقصد لوگوں کی [1] ارشاد الفحول للشوکانی: ۲۹۔ مناہل الفرقان للزرقانی: ۱/۱۷ .