کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 107
یہ مصحف مکی کے مطابق ہے۔ امام جزری رحمہ اللہ کے قول:’’چاہے یہ موافقت تقدیری واحتمالی ہی ہو‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ رسم ِمصحف میں اس کا احتمال ہو، مثلاً ﴿مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْن﴾ (الفاتحۃ:۳) میں الف والی قراء ت، حالانکہ یہ کلمہ تمام مصاحف میں بغیرالف کے مرسوم ہے۔ اس کلمہ کی بلاالف کتابت، الف والی قراء ت (مَالِکِ)کااحتمال بھی رکھتی ہے۔اس کے ساتھ ہی قادراورصالح اسم فاعل اوراس قسم کے دیگر کلمات والامعاملہ کیاگیاہے کہ ان میں الف کو اختصار کی غرض سے رسم ِمصحف سے حذف کیاگیاہے ۔ امام جزری رحمہ اللہ کے قول: ’’ بطریق تواتر ثابت ہو‘‘ سے ہماری مراد: ایسی روایت ہے جس کو کافی بڑی جماعت، جس کے افراد کی تعداد صحیح قول کے مطابق متعین نہیں،نے کافی بڑی جماعت سے نقل کیا ہو اور یہ صفت ابتدائے سند سے انتہائے سندتک ہر طبقہ میں ہو، ایسی روایت علم قطعی کا فائدہ دیتی ہے۔ موجودہ دور میں جن قراء ات میں یہ اَرکان ثلاثہ پائے جاتے ہیں، وہ آئمہ عشرہ کی قراء ات ہیں جن کے نقل و حصول پرلوگوں کااجماع ہے۔ ان آئمہ کی قراء ات کو متاخرین نے متقدمین سے حاصل کیا، یہاں تک کہ موجودہ زمانہ کے لوگ آئے۔ مزید برآں یاد رہے کہ تمام ائمہ کی قراء ات قطعیت میں ایک جیسی ہیں۔ حافظ ابن جزری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’قراء ات ِصحیحہ کی دو اَقسام ہیں: پہلی قسم…ایسی قراء ت جس کی سند صحیح ہو، ابتدائے سند سے انتہائے سند تک تمام راوی عادل ضابط ہوں اور عربیت اوررسم ِمصاحف کے مطابق ہو۔ اس کی پھر دو قسمیں ہیں: ۱… وہ قراء ت جس کی نقل مشہور ہو، وہ اہل فن کے ہاں معروف ہو اورآئمہ قراء ات کے ہاں اسے تلقی بالقبول حاصل ہو جائے، جیساکہ بعض اَئمہ عشرہ یا ان کے