کتاب: حجیت قراءات - صفحہ 102
٭ پڑھنا: ﴿فِیْ شُغُلٍ فَاکِھِیْنَ﴾(یس:۵۵) یہاں فٰکِھُوْنَ تھا۔ ٭ پڑھنا: ﴿قَدْ شَعَفَھَا حُبًّا﴾(یوسف:۳۰) اصل میں یوں تھا: قَدْ شَغَفَہَا حُبًّا۔ ۷۔ اختلاف ِلہجات اس کی مثالیں مندرجہ ذیل ہیں: ٭ ﴿الْحَمْدُ للّٰہِ﴾ (الفاتحہ:۲) کو الْحَمْدِ ﷲ پڑھنا، کیونکہ اس کے بعد ﷲ کے جوار (پڑوسگی)کی وجہ سے اس کو بھی جرد ے دیا۔ یہ تمیم اوربعض غطفان کی لغت ہے۔ ٭ ﴿حَتّٰی تِشْھَدُوْنَ﴾ (النمل:۳۲) علامت ِ مضارع پر ضمہ کے بجائے کسرہ پڑھنا، یہ بنوہذیل، بنو اسد اور بنو ربیعہ کی لغت ہے۔ ٭ ﴿فَلَا تَکُ فِیْ مُرْیَۃٍ ﴾(ھود:۱۰۹) کو میم کے ضمہ کے ساتھ پڑھنا، یہ تمیم اور بنواسد کی لغت ہے۔ ٭ یوں پڑھا جائے: ﴿وَیَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّرَہَبًا ﴾(الانبیاء:۹۰) میں رَغَبًا وَّرَہَبًا کو رُغْبًا وَّرُہْبًا پڑھنا۔ یہ بعض اہل عرب کی لغت ہے،جیسے اسی قبیل سے قرآن کریم میں الْبُخْل اور الرُّشْد کی متواتر قراء ات ہیں۔ خلاصۂ کلام قرآن مجید کو سات حروف پرنازل کیا گیا ہے، لیکن ہرہر حرف کے تحت کئی افراد اور صورتیں آتی ہیں۔ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں، جنہیں عرضۂ اخیرہ میں باقی رکھاگیا او ران کاقرآن کریم ہونا بطریق تواتر ثابت ہے اورکچھ ایسے ہیں جن کو عرضۂ اخیرہ میں منسوخ کردیاگیا اوران کا قرآن کریم ہونا بطریق تواتر ثابت نہیں ہے۔ ایسی قراء ات کو ’شاذہ‘ کانام دیاجاتاہے۔ نتیجہ:… موجودہ قراء ات سبعہ وعشرہ، جن کے مطابق لوگ آج تلاوت کرتے ہیں، اَحرف سبعہ کا کل نہیں، بلکہ جزء ہیں۔