کتاب: حجیت حدیث (اسماعیل سلفی) - صفحہ 200
کےمختلف پہلوؤں کا ذکر فرمایا۔ جہاد، جنگی قیدیوں کا معاملہ، منافقین کی چالاکیاں اور جہاد سے گریز وغیرہ احوال سے ذکر فرماکر ارشاد ہوا طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَّعْرُوفٌ۔ ان کےلیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور دستور کی گفتگو کرنا صحیح راہ عمل ہے ورنہ یہ لوگ خدا کی لعنت میں گرفتار ہوں گے سورۃ کا خاتمہ بھی اسی نصیحت پرفرمایا۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللّٰهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ (۴۷۔ ۳۳)
اے صداقت کے پرستاروں اللہ کی اطاعت اوراس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کوبرباد نہ کرو۔
یعنی رسول کی اطاعت سے انحراف بھی عمل کواسی طرح برباد کردیتا ہے جیسےاللہ تعالیٰ کی نافرمانی اسے تباہ کردیتی ہے یہ رسول کےموقف کی کس قدر کس کی وضاحت ہوئی ہے ؟
وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهِ فَحَاسَبْنَاهَا حِسَابًا شَدِيدًا وَعَذَّبْنَاهَا عَذَابًا نُّكْرًا فَذَاقَتْ وَبَالَ أَمْرِهَا وَكَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِهَا خُسْرًا أَعَدَّ اللَّـهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فَاتَّقُوا اللَّـهَ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ آمَنُوا قَدْ أَنزَلَ اللّٰـهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُولًا يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِ اللّٰـهِ (۶۵/۱۱۔ ۹)
بہت سی بستیوں نے اللہ اور اس کے فرستادوں کےاحکام سے روگردانی کی ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور بےمثل عذاب میں انہیں گرفتار کیا، انہوں نے اپنے کیے کا وبال برداشت کیااو ر بالآخر انہیں بے حد خسارہ ہوا اللہ نے سخت ترین عذاب ان پر مسلط فرمایا اے دانشمند ایماندارو! اللہ سے ڈرو اللہ نے تمہاری طرف اپنا ذکر بصورت رسول نازل فرمایا جو تم پر اس کی آیات تلاوت کرتاہے۔ الخ
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول کے احکام کی نافرمانی کو بہت سی بستیوں کی تباہی کا سبب ٹھہرایا ہے اور ان کی اہمیّت کواوامر الٰہی کے مساوی قرار دیا ہے۔