کتاب: حجیت حدیث (اسماعیل سلفی) - صفحہ 199
ہوئی۔ اور رافت ورحمت کا ظُہور جب بھی ہوا اس نے حق پرست اور اصحاب دیانت کوتلاش کرلیاجس کا لج کےطلبہ میں احتیاط کا یہ عالم ہے کہ کوئی جذبہ اور فطرت کا کوئی تقاضا بےمحل استعمال نہیں ہونے پاتا اس کالج کے پرنسپل اور معلم کےمتعلق سوچیے کہ اس کامقام کیاہوگا۔ قرآن ِ حکیم نے رقتِ قلب اور غضب وشدت کےدونوں حالات کا موازنہ فرمایا ہے ان غیر معمولی حالات میں اگر اعتدال قائم ہے اور مزاج نے کوئی غلط فیصلہ نہیں کیا تونارمل اور معتدل حالات کےمتعلق توبحث کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ پھر جس کی تعلیم نے غیررسول اور غیر معصوم انسانوں میں یہ اعتدال پیدا کردیا۔ وہ معلم جب بوصف رسالت ہوگا توعصمت اس کی زینت ہوگی غور فرمائیے کہ بے اعتدالی کے لیے یہاں گزر کی کوئی گنجائش ہوگی؟ ایسے مقدس انسان کے دینی ارشادات کی شرعی حیثیت پربحث کرنا بھلا معلوم نہیں ہوتا، ہرمقام پرچوروں کی تلاش اور چوری کی فکر شرافت کاتقاضانہیں جس کےتقدس کی منادی چار دانگ عالم میں تورات وانجیل نے کردی ہوآج کون ہے جواس کی طرف تنقید کی نگاہ سے دیکھے؟ بلحاظ رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےمقام کی وضاحت اس آیت میں بصراحت موجود ہے معترضین کوسوچنا چاہیے کہ ان کا موقف کیاہے۔ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ۔ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللّٰهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ۔ (۴۷۔ ۲/۱) حق وصداقت کےمنکر اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتےہیں اس لیے ان کے اعمال برباد ہوگئے اور سچائی پر یقین کرنے والے جن کی عملی زندگی درُست ہے اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی پریقین رکھتے ہیں ان کی غلطیاں معاف ہوں گی اور ان کےحالات درست ہوں گے۔ سورۂ محمد کےآغاز سے ہی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی