کتاب: حجیت حدیث (اسماعیل سلفی) - صفحہ 198
وسلم کو یقین دلایا کہ وہ اس غیر حاضری میں واقعی معذورتھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عذر قبول فرماکرانہیں مُعافی دے دی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس قدر جلد مُعافی دیناپسند نہیں فرمایا۔
عَفَا اللَّـهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْكَاذِبِينَ(۹۔ ۴۳)
اللہ تعالیٰ نے تمہیں مُعاف فرمادیا تم نے اس قدرجلدی انہیں کیوں اجازت دے دی۔ سچے اور جھوٹے کانکھرنا ضروری تھا۔
یہ چار واقعات ہیں جن کا زندگی کے مختلف پہلوؤں سے تعلق ہے اور بہت حد تک یہ واقعات دنیوی اُمور سے متعلق ہیں جب ان کے متعلق قطعی اور حتمی ہدایات دی گئی ہیں توخالص دینی اور تعبدی امورمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات پر کیونکر نظر نہ ہوگی اس سے واضح ہوتاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال حجت ہیں۔ محتاط سیرت کےبعد جس کا اظہار قرآن عزیز میں فرمایاگیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی حیثیت بہت نمایاں ہوجاتی ہے۔
۹۔ مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا
محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کےپیامبر ہیں اور آپ کے ساتھی حق کے منکروں کےلیے بےحد سخت گیر ہیں ان کے باہمی تعلقات رحم و کرم پر مبنی ہیں وہ اللہ کے فضل اور رضامندی کی تلاش کے لیے ہمیشہ رکوع اور سجود میں مشغول رہتےہیں ان کے ان اچھے فضائل کا ذکر تورات وانجیل میں بھی پایاگیاہے۔
ذاتی نام کے ساتھ وصف رسالت کے تذکرہ سے یہ امر واضح ہوتاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام بلحاظ محمد وصفِ رسول سےمختلف ہے رسالت کےتقاضوں کا یہ اثر ہے کہ حضرت کےماننے والوں میں دومتضاد قوتیں اس طرح سمودی گئی ہیں کہ کوئی چیز بھی بے محل اور بے وقت استعمال نہیں ہونے پاتی بلکہ سختی اور شدت جب بھی استعمال ہوئی ہے منکرین حق اور سچائی کےدشمنوں کےخلاف استعمال