کتاب: حجیت حدیث (اسماعیل سلفی) - صفحہ 195
واضح ہے۔ ۸۔ عَبَسَ وَتَوَلَّىٰ أَن جَاءَهُ الْأَعْمَىٰ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّىٰ أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ الذِّكْرَىٰ أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَىٰ فَأَنتَ لَهُ تَصَدَّىٰ وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ وَأَمَّا مَن جَاءَكَ يَسْعَىٰ وَهُوَ يَخْشَىٰ فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ (۸۹۔ ۱/۱۰) ایک نابینا آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رنج آمیز بے توجہی فرمائی آپ کیاجانتے ہیں وہ پاکباز ہو نصیحت سے اسے فائدہ ہو غفلت پیشہ لوگوں کی طرف آپ زیادہ توجہ کرتے ہیں۔ کیامعلوم اس میں تزکیہ کی روح ہے بھی یانہیں اور جولوگ ہمہ تن شوق ہوکر آئیں اور ان کا دل خستہ الٰہی سے معمور ہو آپ اس سے بےنیازی برتتے ہیں۔ ان آیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےمعمولات پرحکیمانہ تنقید فرمائی گئی ہے بشری تقاضوں کی وجہ سے جہاں ایساکوئی واقعہ رونما ہوا جوملاء اعلیٰ کےمصالح کےخلاف تھاوہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو توجہ دلائی گئی تاکہ پیغمبر کی صوابدید ملااعلیٰ کےمنشاء کے موافق ہوجائے۔ کتنا معمولی واقعہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعض قرشی رؤساء سے گفتگو فرمارہے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی آرزو تھی کہ یہ لوگ جہنم کی آگ سے بچیں اچانک عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنی معتاد بے تکلفی کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اپنی طرف پھیرنا چاہا آداب مجلس کا تقاضا تھاکہ جب تک پہلی گفتگو ختم نہ ہوجائے دوسری طرف توجہ نہ فرمائی جائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی قاعدہ کےمُطابق عمل کیا۔ انسانی آداب اور آئین مجلس کےلحاظ سے اس میں کوئی غلطی نہ تھی مگر یہ اُصول پسندی عبداللہ بن ام مکتوم ایسےمخلص کی دل شکنی کاموجب ہوئی جسے آسمان پر بھی ناپسند فرمایاگیا اور ارشاد ہوا کہ ہدایت کی امیدپر ان لوگوں کونظر انداز نہ فرمایاجائے جن پر اللہ تعالیٰ کی نوازش ہوچکی ہے اور ان کے دل خشیت الٰہی سے معمور ہوچکے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یومیہ معمولات پر کتنا بڑا احتساب ہے، حالانکہ ایسے واقعات ایک مبلغ کی زندگی میں آئے دن پیش آئے اور اسےحفظِ مراتب اور آداب مجلس کا یومیہ بارہا لحاظ رکھنا ہوتا