کتاب: حجیت حدیث (اسماعیل سلفی) - صفحہ 194
وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (۴۲۔ ۵۲) ’’ہم نے آپ کی طرف بھی اسی طرح اپنا امروحی کیا۔ “
وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِن قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ(۱۰۔ ۶۱) ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی حالت میں ہوں، قرآن پڑھیں یا کوئی اور کام کریں مگر اللہ تعالیٰ اس میں شاہد ہوتاہے اور اللہ تعالیٰ سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں اور نہ ہی کوئی بڑی یا چھوٹی اس کی نگاہ سےمخفی ہے۔ “
پہلی آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم اور ان کی تحصیل کی راہوں کا تذکرہ فرمایااور دوسری آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام حالات کی ذمہ داری خود قبول فرمائی اور فرمایا جوتم کرتے ہو یاکہتےہو میری نگاہوں میں ہے او رجب آسمان اور زمین کا کوئی ذرّہ اور کوئی چھوٹی بڑی چیز ہم سے پوشیدہ نہیں تو پیغمبر کا قول وفعل اوردیگر امور ہم سے کیونکر چھپ سکتےہیں؟
سورۂ عبس میں ابنِ ام مکتوم کے واقعہ میں ذراسی بے توجہی پر کس حکیمانہ انداز سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق عمل کی اصلاح فرمائی ہے اس سے واضح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال پر خطیرۃ القدس کی توجہ کس قدر مبذول تھی۔ اس ذمہ داری اور احتراس کےبعد بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور اعمال گرامی کواحتجاج کامقام حاصل نہیں ہوتاتوفرمایا جائے کہ حجت کےلیے اورکونسی سند ہونی چاہیے جس کی سیرت اتنی پاک، جس کاعلم اتنامحفوظ ہو اس کے اقوال کیونکر مشتبہ ہوں گے؟
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ میں بظاہر نطق ہی کو وحی قراردیاگیا ہے اورآیت ۴ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام حالات کا ذمہ لے لیاگیاہے۔ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےتمام علوم کی حفاظت بالکل