کتاب: حجیت حدیث (اسماعیل سلفی) - صفحہ 193
سورہ ونون کےبعض مجمل گوشوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے إِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ کی وضاحت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمۃ للعالمین ہونے کا صراحۃ ً ذکر فرمایا ہے اور یہ رحمت ورافت اس وقت ظاہر اور نمایاں ہوئی جب مکہ فتح ہوچکا اور دشمن سرنگوں ہوچکے تھے اس قوت وعزت کے باوجود آپ کے اخلاق میں نہ جذبہ انتقام ہے اور نہ شدت صلی اللہ علیہ وسلم۔ ا ِس حسن سلوک اور رفعت اخلاق کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات قابل قبول نہیں تومعلوم نہیں ادارہ طلوع اسلام کون ساآلہ اعتماد کے لیے ایجاد کرے گا۔
۶۔ وَأَنزَلَ اللَّـهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُن تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّـهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا۔ (۴۔ ۱۱۳)
اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری اور وہ علوم سکھائے جو آپ نہیں جانتے تھے اور تم پر اللہ کا بہت بڑ افضل تھا۔
1۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم، اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب وحکمت کی صورت میں نازل ہوئے۔
2۔ اور یہ سب کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کولاعلمی کےبعدسکھایاگیا۔
۳۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اس میں پیغمبر کی ذات کو کوئی دخل نہیں جب علم اور حکمت اللہ کی طرف سے اتاری گئی تواس کی تمام تر ذمہ داری اللہ تعالیٰ پر ہوگی پھر وہ حجت کیوں نہیں اور علوم نبوی کو علوم الٰہی سے ممتاز کیسے کیاجائے۔ یہ ایک ایسی سند ہے جس کے رواۃ پر کوئی شبہ نہیں۔ قرآن حکیم اس کی صحت اور صداقت کاخود شاہد ہے۔ اس صداقت کےقبول سے محرومی واقعی محرومی ہے۔
۷۔ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ (۴۲۔ ۵۱)
اللہ تعالیٰ جب کسی سے کلام کرتاہے تواس کی تین صورتیں ہیں (۱)فرشتہ رسول کی شکل میں آئے (۲)غیبی آواز آئے (۳)یابذریعہ الہام اسےاطلاع دی جائے۔