کتاب: حجیت حدیث (اسماعیل سلفی) - صفحہ 192
اس آیت پاک سے حسب ذیل اُمور ثابت ہوتےہیں۔
(ا) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ماحول میں مبعوث فرمائے گئے جہاں تعلیم کا چرچانہ تھا اور نہ ماحول ہی علمی تھا۔
(ب)اس کے باوجودآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت فرماتےتھے۔
(ج) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کے اثر سے اس ناخواندہ اور غیر مہذب قوم کے ذہن صاف ہوگئے اور انہیں اخلاقی اور روحانی اور جسمانی پاکیزگی نصیب ہوئی اس جملہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ دونوں کی کامیابی کا اعلان ہے پیغمبر کی قوتِ موثرہ کا اعلان ہے اورصحابہ رضی اللہ عنہما کے اخذ وتأثر واقعی کی تعریف فرمائی گئی ہے۔
(د)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کتاب الٰہی کی تعلیم دیتے تھے وہ اُمیّ بھی تھے اور معلم بھی اور حکمت بھی اس اُمی کی سیرت ہے صلی اللہ علیہ وسلم ان اوصاف کی موجودگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی جو اہمیت ہونی چاہیے وہ اہلِ نظر سےپوشیدہ نہیں، قرآن جس شخصیت کی تلاوت، تزکیہ اور تعظیم کی تعریف فرمادے اس پر شبہات کااظہار ایمان کےمنافی ہے وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ۔
۵۔ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ۔
تمہیں میں سے تمہارے پاس رسول آیا تمہاری تکلیف اسے ناگوار ہے وہ تمہاری نصیحت کے خواہشمند ہیں اہل ایمان کے لیے ان کا دل بےحد نرم ہے اگر لوگ تمہاری اطاعت سے بےرخی برتیں توان سے کہہ دو کہ میرے لیے میراخداکافی ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں مجھے اس پر بھروسہ ہے اور وہ عرش عظیم کا محافظ ہے۔
یہ سورۃ توبہ کی آخری آیات ہیں اور سورہ شوال ۹ھ میں نازل ہوئی اس میں