کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 535
سے مانگے‘(البتہ)بندہ کو ان اہم اور عظیم ترین امور کا خصوصی اہتمام کرنا چاہئے جس میں اس کی حقیقی سعادت کا راز پنہاں ہے،ان میں سے نو اہم ترین امور حسب ذیل ہیں: 1- اللہ تعالیٰ سے ہدایت اوراصلاح کا سوال کرنا۔ 2- اللہ تعالیٰ سے تمام گناہوں کی بخشش ومغفرت کا سوال کرنا۔ 3- اللہ عزجل سے جنت کا سوال کرنا اور اس سے جہنم سے پناہ مانگنا۔ 4- اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت میں عفو و عافیت کا سوال کرنا۔ 5- اللہ عزوجل سے دین پر استقامت اور ثابت قدمی کا سوال کرنا۔ 6- اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دنیا و آخرت میں حسن انجام کا سوال کرنا۔ 7- اللہ تعالیٰ سے نعمت کی ہمیشگی کا سوال کرنا اور اس سے نعمت کے زوال سے پناہ مانگنا۔ 8- اللہ تعالیٰ سے مصیبت کی سختی سے‘ بدبختی کے ملنے سے‘ برے فیصلہ سے‘ اور دشمنوں کی شماتت سے پناہ مانگنا۔ 9- اللہ تعالیٰ سے دین و دنیا اور آخرت کی بھلائی کا سوال کرنا[1]۔ میں اللہ عز وجل سے سوال کرتا ہوں کہ وہ اس عمل کو خالص اپنے رخ کریم کے لئے بنائے اور اسے میرے لئے میری زندگی میں اور مرنے کے بعد نفع بخش بنائے‘ اور جس تک بھی یہ کتاب پہنچے اسے اس کے ذریعہ فائد ہ پہنچائے،کیونکہ وہ سب سے بہتر ہے جس سے سوال کیا جاتا ہے اور انتہائی کریم ہے جس سے امید وابستہ کی جاتی ہے،وہی میرے لئے کافی اور بہترین کارساز ہے۔ اللہ کی رحمت و سلامتی اور برکت نازل ہو اس کے بندہ و رسول،اور اس کی مخلوق میں سب سے پسندیدہ ذات،ہمارے نبی،ہمارے امام اور ہمارے اسوہ محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر،آپ کے آل و اصحاب پراور قیامت تک آنے والے ان کے سچے متبعین پر۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] دیکھئے:جامع العلوم والحکم،لابن رجب،2/38 تا 40 وشروط الدعاء و موانع الاجابہ،ازمولف کتاب،ص 136 تا 149۔