کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 533
3- مصیبت کے ساتھ دعاء کے تین مراتب ہیں: (1)یہ کہ دعا مصیبت سے زیادہ طاقتور ہو تو اسے دور ہٹا دے۔ (2)یہ کہ دعاء مصیبت سے کمزور تر ہو تو مصیبت دعاء پر غالب آجائے اور بندہ اس مصیبت سے دو چار ہو جائے،لیکن کبھی کمزور ہونے کے باوجود بھی دعاء اس مصیبت کو ہلکا کردیتی ہے۔ (3)یہ کہ دونوں میں پنجہ آزمائی ہو،اور دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کو روکنے کی کوشش کرے [1]۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: ’’الدعاء ینفع مما نزل ومما لم ینزل،فعلیکم عباد اللّٰه بالدعائ‘‘[2]۔ دعاء نازل شدہ اور متوقع النزول ہر دو مصیبتوں میں مفید ہے،لہٰذا اے اللہ کے بندو اللہ سے دعاء کیاکرو۔ اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لا یرد القضاء إلا الدعائ،ولا یزید في العمر إلا الـــبـــر‘‘[3]۔ قضا و قدر کو دعاء ہی ٹال سکتی ہے،اور عمر میں نیکی سے ہی اضافہ ہو سکتا ہے۔ 4- دعاء میں الحاح و زاری سب سے نفع بخش علاج ہے،چنانچہ سچا مسلمان دعا پر پل پڑتا ہے ‘ اس کا التزام اور اس کی پابندی کرتا ہے،اور قبولیت کے اوقات میں اسے دوہراتا ہے‘ یہ دعا کی قبولیت سے سرفرازی کا سب سے عظیم سبب ہے[4]۔
[1] دیکھئے:حوالہ سابق،ص 24،35 تا 37۔ [2] مستدرک حاکم،1/493،مسند احمد،علامہ شیخ البانی نے اسے صحیح الجامع(3/151،حدیث نمبر:3402)میں صحیح قراد دیا ہے۔ [3] سنن ترمذی(مذکورہ الفاظ کے ساتھ)،کتاب القدر،باب ما جاء لا یرد القدر الا بالدعائ،4/484،حدیث نمبر:(2139)،اور فرمایا ہے کہ:’’یہ حدیث حسن غریب ہے‘‘،نیز اسے امام حاکم نے بھی اسی سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ(ثوبان رضی اللہ عنہ سے)روایت کیا ہے،1/ 493،اور صحیح قرار دیا ہے،اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے،اور علامہ شیخ البانی نے اس حدیث کو مستدرک حاکم(بروایت ثوبان رضی اللہ عنہ)،سنن ابن ماجہ(حدیث نمبر:4022)اور مسند احمد(5/277)میں موجود اس حدیث کے شاہد ہونے کے سبب سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ(1/76،حدیث نمبر:154)اورصحیح سنن ترمذی میں حسن قرار دیا ہے۔ [4] دیکھئے:الجواب الکافی لمن سأل عن الدواء الشافی،لابن القیم،ص 25،وشروط الدعاء و موانع الاجابہ،از:مولف،ص 51،52۔