کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 531
(ج)(سابقہ)گناہ کے ارتکاب پرندامت و شرمساری۔
(د)اگر گناہ کسی آدمی کے حق میں ہوتو اس کے لئے ایک چوتھی شرط یا چوتھا رکن بھی ہے،وہ یہ ہے کہ حقدار سے اس حق کو حلال کروالے اورحقوق لوٹا دے۔
غرغرہ کے وقت یا آفتاب کے مغرب سے طلوع ہونے کے بعد توبہ نفع بخش نہیں ہوتا[1]۔
دوم:خلوت و جلوت میں اللہ عز وجل کا تقویٰ اختیار کرنا،اور وہ یہ ہے کہ بندہ اللہ کی روشنی میں،اس کے ثواب کی امید کرتے ہوئے اس کی اطاعت کا عمل انجام دے،اور اللہ کی روشنی میں اللہ کے عذاب کا خوف کرتے ہوئے اس کی معصیت و نافرمانی ترک کردے اور اپنے اور اپنے رب کے غضب و ناراضگی اور عذاب کے خوف کے درمیان بچاؤ کا ایک ایسا ذریعہ بنا لے جو اسے اللہ کے عذاب سے محفوظ رکھے[2]۔
سوم:معروف(بھلائی)کا حکم دینا اور منکر(برائی)سے روکنا،اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ(١٠٤)﴾[3]۔
تم میں سے ایک ایسی جماعت ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے روکے‘ اور یہی لوگ فلاح و نجات پانے والے ہیں۔
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:
’’والذي نفسي بیدہ لتأمرن بالمعروف ولتنھون عن المنکر،أو لیوشکن اللّٰه أن یبعث علیکم عقاباً من عندہ ثم تدعُنَّہ فلا یستجیب لکم‘‘[4]۔
اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم ضرور بالضرور بھلائی کا حکم دو گے اور برائی سے منع
[1] دیکھئے:مدارج السالکین،لابن القیم،1/ 201 تا 440،وشرح النووی علی صحیح مسلم،17/59،الآداب الشرعیۃ لابن مفلح،1/ 85 تا 156،غذاء الالباب للسفارینی،2/ 568 تا 569۔
[2] زیر نظر کتاب کا ص:(417)ملاحظہ فرمائیں۔
[3] سورۃآل عمران:104۔
[4] سنن ترمذی،کتاب الفتن،باب ماجاء فی الامر بالمعروف والنھی عن المنکر،4/ 68 حدیث نمبر:(2169)،مسند احمد(الفاظ مسند احمد ہی کے ہیں)،5/ 388،علامہ شیخ البانی نے اسے صحیح سنن ترمذی(2/ 233)میں حسن قرار دیا ہے۔