کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 529
حسب ذیل ہیں:
1- توبہ کرنے والوں سے اللہ کی محبت،ارشاد باری ہے:
﴿إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ(٢٢٢)﴾[1]۔
بیشک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاکی حاصل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
2- بندہ کی توبہ سے اللہ عزوجل کی فرحت و مسرت،چنانچہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’للّٰه أشد فرحاً بتوبۃ عبدہ حین یتوب إلیہ من أحدکم کان علی راحلتہ بأرضٍ فلاۃٍ فانفلتت منہ وعلیھا طعامہ و شرابہ،فأیس منھا فأتی شجرۃً فاضطجع في ظلھاقد أیس من راحلتہ فبینما ھو کذلک إذ ھو بھا قائمۃ عندہ،فأخذ بخطامھا ثم قال من شدۃ الفرح:اللھم أنت عبدي وأنا ربک،أخطأ من شدۃ الفرح‘‘[2]۔
جب بندہ اللہ کی جانب توبہ کرتا ہے تو اللہ عزوجل اپنے بندے کی توبہ سے تم میں اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جوکسی چٹیل میدان میں اپنی سواری پر ہو اور یکایک وہ سواری اپنے کھانے پانی سمیت اس سے کھو جائے‘ اور وہ اس سواری سے مایوس ہوکر ایک درخت کے سائے میں آکر لیٹ جائے‘ اور ابھی وہ اسی حالت مین ہو کہ اچانک کیا دیکھے کہ اس کی سواری اس کے سامنے کھڑی ہے،چنانچہ وہ اس کی نکیل پکڑ کر بول پڑے:اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں،مارے خوشی کے غلطی کرجائے۔
3- اللہ عزوجل کا گناہوں کو نیکیوں میں بدل دینا،اللہ کا ارشاد ہے:
﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللّٰهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللّٰهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا(٦٨)يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ
[1] سورۃ البقرۃ:222۔
[2] متفق علیہ:کتاب الدعوات،باب التوبہ،7/ 189،حدیث نمبر:(6309)،صحیح مسلم(الفاظ اسی کے ہیں)،کتاب التوبہ،باب فی الحض علی التوبہ والفرح بھا،4/2104،حدیث نمبر:(2747)۔