کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 524
سے درگزر فرمادیتاہے۔ (52/3)عام ہلاکت انگیز عذاب کانزول،ان میں کچھ عذاب درج ذیل ہیں: (الف)طاعون کا ظہور۔ (ب)ایسی بیماریوں کا نزول جن کا وجود گذشتہ قوموں میں نہ تھا۔ (ج)قحط سالی‘ اخراجات کی دشواری اور حاکم وقت کا ظلم و تشدد۔ (د)آسمان سے بارش کا روک دیاجانا،اور اگر مویشی نہ ہوتے تو بارش ہی نہ ہوتی۔ (ھ)دشمنوں کا غلبہ و تسلط۔ (و)اللہ تعالیٰ ان میں خانہ جنگی کی وبا ڈال دے گا۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ’’یا معشر المھاجرین خمس إذا ابتلیتم بھن وأعوذ باللّٰه أن تدرکوھن:لم تظھر الفاحشۃ في قوم حتي یعلنوا بھا إلا فشا فیھم الطاعون والأوجاع التي لم تکن مضت في أسلافھم الذین مضوا،ولم ینقصوا المکیال والمیزان إلا أخذوا بالسنین وشدۃ المؤونۃ وجور السلطان علیھم،ولم یمنعوا زکاۃ أموالھم إلا منعوا القطر من السماء ولولا البھائم لم یمطروا،ولم ینقضوا عھد اللّٰه وعھد رسولہ إلا سلط اللّٰه علیھم عدواً من غیرھم فأخذوا بعض ما في أیدیھم،وما لم تحکم أئمتھم بکتاب اللّٰه ویتخیروا مما أنزل اللّٰه إلا جعل اللّٰه بأسھم بینھم‘‘[1]۔ اے مہاجرین کی جماعت! پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جب تم ان میں مبتلا ہو،اور میں اللہ سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم ان سے دوچار ہو،جس کسی قوم میں فحاشی ظاہر ہوتی ہے اور وہ اسے علانیہ کرنے
[1] سنن ابن ماجہ،کتاب الفتن،باب العقوبات،2/1332،حدیث نمبر:(4019)،نیز امام حاکم نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے اور امام ذہبی نے ان کی موافقت فرمائی ہے،4/540،علامہ شیخ البانی نے اسے صحیح سنن ابن ماجہ(2/370)اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ(1/7،حدیث نمبر:106)میں صحیح قرارد یا ہے۔