کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 510
حدود: جیسے مرتد کا قتل‘ زناکاری‘ چوری،تہمت تراشی اور شراب خوری وغیرہ کی حدیں۔ یہ حدود(درج ذیل)پانچ ضرورتوں کی حفاظت کرتی ہیں: دین‘ جان‘ نسل‘ عقل اور مال۔ اللہ عز وجل نے محض ان پانچ ضرورتوں کی حفاظت ہی کے لئے یہ حدیں مشروع فرمائی ہیں۔ کفارے: یہ قتل خطا‘ ظہار[1] اور رمضان کے دن ‘ حالت احرام‘ ایام حیض و نفاس وغیرہ میں بیوی سے ہمبستری کرلینے اور قسم کے کفارے ہیں۔ تعزیرات(تنبیہی سزائیں): یہ سزائیں مسلمان حاکم کی صوابدید پر مبنی ہیں‘ وہ ان کے ذریعہ زجر و توبیخ کرتا ہے[2] تنبیہی سزائیں حدود کے درجہ تک نہیں پہنچتیں،الا یہ کہ جرم بہت سنگین ہوتو تعزیر قتل تک بھی پہنچ سکتی ہے،اور یہ تمام چیزیں حاکم کی خواہش نفس کے مطابق نہیں بلکہ شرعی قواعد کے مطابق ہیں[3]۔ (34/2)قدری سزائیں:اس کی دوقسمیں ہیں: دل و جان پر،اور جسم و مال پر۔ دل و جان کو ہونے والی قدری سزائیں وہ وجودی آلام و مصائب ہیں جن سے دل دوچار ہوتا ہے،نیز ان
[1] ’’ظہار‘‘ ظہر سے ماخوذ ہے جس کے معنیٰ پشت کے ہوتے ہیں،اصطلاح میں ظہار اس عمل کو کہتے ہیں کہ آدمی اپنی بیوی سے کہے کہ تم مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہو،(یا محرمات میں سے کسی کی بھی پشت کی طرح کہے)،ایسا کرنے والے پر بالترتیب تین کفارے ہیں:1-ایک غلام آزاد کرنا،اگر اس کی استطاعت نہ ہوتو 2- مسلسل دوماہ کے روزے رکھنا،اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو 3-ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا،کفارے کی ادائیگی کے بغیر وہ اپنی بیوی سے ہمبستری نہیں کر سکتا۔(مترجم) [2] دیکھئے:الجواب الکافی لمن سأل عن الدواء الشافی،لابن القیم،ص 208 تا 211،المعاصی و اثرھا علی الفرد والمجتمع،لحامدبن محمد المصلح،ص 116 تا 118۔ [3] مجلۃ البحوث الاسلامیہ،مجریہ از رئاسۃ البحوث العلمیہ(شمارہ:21،ص 355)میں نشا آور اشیاء کی اسمگلنگ کرنے اور اس کی ترویج کرنے والے کے بارے میں ہیئۃ کبار العلماء کی قرار داد نمبر:(138)ملاحظہ فرمائیں۔