کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 502
لعنت فرمائی ہے[1] ‘ اسی طرح کثرت سے قبروں کی زیارت کرنے والیوں‘ ان پر مسجد بنانے اور چراغاں کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے[2] ‘ اسی طرح عورت کی پچھلی شرمگاہ میں جنسی عمل کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے [3]،نیز بتایا ہے کہ اپنے شوہر کے بستر کو چھوڑ کر رات گزارنے والی عورت پر فرشتے صبح تک لعنت کرتے رہتے ہیں[4] ‘ نیزاس بات کی خبر دی ہے کہ جو اپنے بھائی کی طرف لوہے سے اشارہ کرتا ہے فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں[5] ‘ نیزاللہ عز وجل نے اپنے اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچانے والے پر اپنی کتاب میں لعنت فرمائی ہے[6] ‘ نیز زمین میں فساد پھیلانے والے ‘ اللہ کے عہد و پیمان کو توڑنے والے اور اللہ نے جس کو جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹنے والے پر لعنت فرمائی ہے[7] ‘ نیز اللہ کی نازل کردہ نشانیوں اور ہدایت کو چھپانے والوں پر لعنت فرمائی ہے[8] ‘ اسی طرح بھولی بھالی ‘ پاک دامن مومنہ عورتوں پر فحش کاری(زنا)کی تہمت لگانے والوں پر لعنت فرمائی ہے[9]،اسی طرح کافروں کی راہ کو مومنوں کی راہ سے زیادہ مبنی بر ہدایت سمجھنے والوں پر لعنت فرمائی ہے[10] ‘ نیز اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ اور بہت سی دوسری چیزوں پر لعنت فرمائی ہے‘ اگر ان کے ارتکاب میں صرف اتنی ہی
[1] سنن ترمذی،کتاب الاحکام،باب ما جاء فی الراشی والمرتشی،3/613،حدیث نمبر:(1336)،سنن ابوداود،کتاب الاقضیہ،باب کراھۃ الرشوۃ،3/ 300،حدیث نمبر:(3580)،علامہ شیخ البانی نے اس حدیث کو صحیح سنن ابن ماجہ(2/34)‘ ارواء الغلیل(حدیث نمبر:2626)اور صحیح سنن ابوداود(حدیث نمبر:3055)میں صحیح قرار دیا ہے۔ [2] سنن ابوداود،کتاب الجنائز،باب فی زیارۃ النساء للقبور،3/218،حدیث نمبر:(3236)،سنن ترمذی،2/ 136،علامہ شیخ البانی نے اس حدیث کو صحیح سنن ترمذی(1/308)میں حسن قرار دیا ہے۔ [3] سنن ابوداود،کتاب النکاح،باب ماجاء فی جامع النکاح،2/249،حدیث نمبر:(2162)،اس حدیث کو علامہ شیخ البانی نے صحیح سنن ابوداود(2/406)میں حسن قرار دیا ہے۔ [4] صحیح بخاری،کتاب النکاح،باب اذا باتت المرأۃ مھاجرۃ فراش زوجھا،6/ 183،حدیث نمبر:(5193)۔ [5] صحیح مسلم،کتاب البر والصلۃ،باب النھی عن الاشارۃ بالسلاح الی المسلم،4/2020،حدیث نمبر:(2616)۔ [6] دیکھئے:سورۃ الاحزاب:57۔ [7] دیکھئے:سورۃ الرعد:25۔ [8] دیکھئے:سورۃ البقرہ:159۔ [9] سورۃ النور:23۔ [10] سورۃ النساء:51،52۔