کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 501
اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی ہے اورفرمایا ہے کہ یہ سب کے سب(گناہ میں)برابر ہیں[1]،نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گدھے کے پاس سے گزر ہوا جس کے چہرے کو داغا گیا تھا‘ تو آپ نے فرمایا: ’’لعن اللّٰه الذي وسمہ‘‘[2]۔ اس کے داغنے والے پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی طرح آپ نے چور پر لعنت فرمائی ہے کہ(اگر)انڈا چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے ‘ رسی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیاجائے[3]،اسی طرح غیراللہ کے لئے قربانی کرنے والے‘ بدعتی کو پناہ دینے والے‘ اپنے والدین پر لعنت کرنے والے اور زمین کے نشان(حدبندیاں)بدلنے والے پر لعنت فرمائی ہے[4]،اسی طرح مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں اور عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی ہے[5]،اسی طرح شراب‘شرابی‘ ساقی‘ اس کے فروخت کرنے والے،خریدنے والے‘ نچوڑنے والے‘ نچوڑوانے والے‘ لادنے والے‘ لدوانے والے اور اسکی قیمت کے کھانے والے پر لعنت فرمائی ہے[6]،اسی طرح نشانہ لگا نے کے لئے کسی ذی روح چیز کوباندھ کر مارنے والے پر لعنت فرمائی ہے [7]،نیز تصویر کشی کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے[8]،اسی طرح اپنی ماں اور باپ کو برا بھلا کہنے(گالی دینے)والے‘نابینا کو غلط راہ دکھانے والے‘ چوپائے سے بدفعلی کرنے والے‘ قوم لوط کا عمل(اغلام بازی)کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے[9] ‘ اسی طرح رشوت لینے اور دینے والے پر
[1] صحیح مسلم،کتاب المساقاۃ،باب لعن آکل الربا وموکلہ،3/1218،حدیث نمبر:(1597)۔ [2] صحیح مسلم،کتاب للباس والزینہ،باب النھی عن ضرب الحیوان فی وجھہ ووسمہ فیہ،3/1673،حدیث نمبر:(2117)۔ [3] صحیح مسلم،کتاب الحدد،باب حد السرقۃ ونصابھا،3/ 1314،حدیث نمبر:(1687)۔ [4] صحیح مسلم،کتاب الاضاحی،باب تحریم الذبح لغیر اللّٰه ولعن فاعلہ،3/ 1567،حدیث نمبر:(1978)۔ [5] صحیح بخاری،کتاب اللباس،باب المتشبھین بالنساء والمتشبھات بالرجال،حدیث نمبر:(5885)۔ [6] سنن ابوداود،کتاب الاشربہ،باب العنب یعصر للخمر،3/326،حدیث نمبر:(3674)،ابن ماجہ،کتاب الاشربہ،باب لعنت الخمر علی عشرۃاوجہ،2/1122،علامہ شیخ البانی نے اس حدیث کو صحیح سنن ابوداود(2/700)میں صحیح قرار دیا ہے،بین القوسین کے الفاظ سنن ابن ماجہ کے ہیں۔ [7] صحیح مسلم،کتاب الصید والذبائح،باب النھی عن صبر البھائم،3/ 1550،حدیث نمبر:(1958)۔ [8] صحیح بخاری،کتاب اللباس،باب من لعن المصور،7/ 88،حدیث نمبر:(5962)۔ [9] مسند احمد،1/217،علامہ احمد محمد شاکر نے مسند احمد کی شرح میں اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے،3/ 266،حدیث نمبر:(1875)۔