کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 495
(13)گناہ دل سے حیا کوختم کردیتے ہیں جو ہر بھلائی کی اصل اور بنیاد ہے،حیاء کا ختم ہونا ساری بھلائی کا ختم ہوجانا ہے،عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’الحیاء خیر کلہ‘‘أو قال:’’الحیاء کلہ خیر‘‘[1]۔ حیاء مکمل طور پر خیر ہی خیر ہے،یا فرمایا:حیاء سراپا خیر وبھلائی ہے۔ نیز انہی سے روایت ہے ‘ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’ الحیاء لا یأتي إلا بخیر‘‘[2]۔ حیاء خیروبھلائی ہی لاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ گناہ بندے کی حیاء کو کمزور کردیتے ہیں،یہاں تک کہ بسا اوقات حیاء پورے طور پر ختم ہوجاتی ہے،چنانچہ(اس کے نتیجہ میں)لوگوں کو اس کی بری حالت کا علم یا اس کی اطلاع ہونے سے اس پر سرے سے کوئی اثر نہیں پڑتا،بلکہ بہت سے گنہ گار لوگ(بذات خود)اپنی حالت اور اپنے کالے کرتوت کی خبر دیتے ہیں،انہیں اس چیزپر آمادہ کرنے والی شے(کلی طور پر)شرم و حیاء کا فقدان ہوتا ہے،اور جب بندے کی یہ حالت ہوجائے تو اس کی اصلاح و درستی کی کوئی صورت باقی نہیں رہ جاتی[3]،ایسے شخص پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی(درج ذیل)حدیث کے دو معانی میں سے کوئی ایک معنیٰ صادق آتا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’إن مما أدرک الناس من کلام النبوۃ الأولیٰ:إذا لم تستح فاصنع ما شئت‘‘[4]۔ پہلی(سابقہ)نبوت کی جو باتیں لوگوں کو ملی ہیں ان میں سے یہ بھی ہے:جب تمہیں حیاء نہ آئے تو جو چاہو کرو۔ اس حدیث کی دو تفسیریں ہیں:
[1] صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان عدد شعب لایمان،1/64،حدیث نمبر:(37)۔ [2] متفق علیہ:صحیح بخاری،کتاب الادب،باب الحیائ،7/130،حدیث نمبر:(6117)وصحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان عدد شعب الایمان،1/ 64،حدیث نمبر:(37)۔ [3] دیکھئے:الجواب الکافی لمن سأل عن الدواء الشافی،لابن القیم،ص130 تا 133۔ [4] صحیح بخاری،کتاب احادیث الانبیاء،باب،4/183،حدیث نمبر:(3483)۔