کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 487
دل میں توبہ کا ارادہ رفتہ رفتہ کمزور ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے‘ اگر وہ آدھا مربھی جائے تو بھی توبہ نہیں کرتا ہے(بلکہ)صرف زبان سے خوب جھوٹوں کی توبہ و استغفار کرتا ہے جبکہ اس کا دل گناہوں سے وابستہ‘ اس پر آمادہ اور حسب امکان اس کے سر انجام دینے کا عزم کئے ہوتا ہے‘ یہ سب سے عظیم اور ہلاکت سے سب سے زیادہ قریب ترین مرض ہے[1]۔
(ج)گناہ اللہ اور دار آخرت کی طرف دل کے سفر کو کمزور کرتے ہیں یا اس کی راہ میں آڑ بنتے یا اسے روکتے اور اس کا راستہ کاٹ دیتے ہیں،چنانچہ گناہ یاتو دل کو مردہ کردیتا ہے یا اسے خوفناک مرض میں مبتلا کردیتا ہے یا اس کی قو ت کو کمزور کردیتا ہے(اور اس کے بغیر چارئہ کار نہیں)یہاں تک کہ اس کی کمزوری ان آٹھ امور تک جاپہنچتی ہے جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی ہے،آپ کا ارشاد ہے:
’’اللھم إني أعوذبک من الھم والحزن،والعجز والکسل،والبخل والجبن،وضلع الدین وغلبۃ الرجال‘‘[2]۔
اے اللہ ! میں رنج وغم‘عاجزی و سستی‘کنجوسی و بزدلی‘ قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبہ سے تیری پناہ چاہتاہوں۔
مطلب یہ ہے کہ گناہ ان(مذکورہ)آٹھ امور میں ملوث ہونے نیز ’’مصیبت کی سختی ‘بدبختی کا شکار ہونے‘برے فیصلے اور دشمنوں کی شماتت‘‘[3]اسی طرح ’’اللہ کی نعمت کے زائل ہونے‘اس کی عافیت کے پلٹ جانے‘اس کے عذاب کے اچانک آجانے اوراس کی تمام ناراضگیوں‘‘[4]سے دوچار ہونے کا قوی ترین سبب ہیں۔
(6)دنیا میں دل کو اللہ سے روکتا ہے،اور سب سے بڑا حجاب قیامت کے دن ہوگا،جیساکہ اللہ عزوجل کا
[1] حوالہ سابق،ص 110 و 200۔
[2] متفق علیہ،بروایت انس رضی اللّٰه عنہ:صحیح بخاری،کتاب الدعوات،باب التعوذ من غلبۃ الرجال،7/203،حدیث نمبر:(6363)ومسلم،کتاب الذکر والدعاء والتوبہ والاستغفار،باب التعوذ من العجز والکسل،4/2079،حدیث نمبر:(2706)۔
[3] متفق علیہ،بروایت ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ:صحیح بخاری،کتاب الدعوات،باب التعوذ من جھد البلائ،7/199،حدیث نمبر:(6347)وصحیح مسلم،کتاب الذکر والدعاء،باب فی التعوذ من سوء القضاء و درک الشقاء وغیرہ،4/2080،حدیث نمبر:(2707)۔
[4] صحیح مسلم،کتاب الذکر والدعاء،4/2097،حدیث نمبر:(2739)،نیز دیکھئے:الجواب الکافی،لابن القیم،ص104۔