کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 481
ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں‘ بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے،اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ:جب تک کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اجتنبوا السبع الموبقات‘‘ قالوا:یا رسول اللّٰه،وما ھن؟ قال:’’الشرک باللّٰه،والسحر،وقتل النفس التي حرم اللّٰه إلا بالحق،وأکل الربا،وأکل مال الیتیم،والتولي یوم الزحف،وقذف المحصنات المؤمنات الغافلات‘‘[1]۔
سات مہلک چیزوں سے بچو،صحابۂ کرام نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیاہیں؟،فرمایا:اللہ کے ساتھ شرک،جادو،اللہ کی حرام کردہ جان کو ناحق قتل کرنا،سود کھانا،یتیم کا مال کھانا،جنگ کے روز پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور پاکباز،بھولی بھالی مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا۔
کبیرہ گناہ کی تعریف اور اس کی تعداد کے سلسلہ میں اختلاف ہے‘ چنانچہ کہا گیا ہے کہ:یہ چار ہیں،اور کہا گیا ہے کہ:سات ہیں،اور کہا گیا ہے کہ:نو ہیں،اورکہا گیا ہے کہ:گیارہ ہیں،اور کہا گیا ہے کہ:یہ ستر ہیں،اور بیان کیا جاتا ہے کہ ایک شخص نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کبیرہ گناہ کتنے ہیں‘ کیا یہ سات ہیں؟ تو انھوں نے فرمایا:ان کا سات کے بجائے ستر ہونا زیادہ قریب ہے‘ ہاں مگر استغفار کے ساتھ کوئی گناہ کبیرہ نہیں ہوتا اور اصرار(ہمیشگی)کے ساتھ کوئی گناہ صغیرہ نہیں رہتا[2]۔
صحیح اور درست بات یہ ہے کہ کبیرہ گناہوں کی کوئی محدود ومتعین تعداد نہیں ہے،البتہ جس گناہ پر دنیا میں کوئی حد(متعین شرعی سزا)مرتب ہوتی ہو‘ یا جس پر جہنم یا لعنت یا غضب یا سزا یا نفی ایمان کی وعید سنائی گئی ہو وہ گناہ کبیرہ ہے‘ اور جس گناہ پر دنیا میں کوئی حد مرتب نہ ہو اور نہ آخرت میں کوئی وعید تو وہ گناہ صغیرہ ہے[3]۔
[1] متفق علیہ:صحیح بخاری،کتاب الوصایا،باب قول اللّٰه تعالی:{ان الذین یأکلون أموال الیتامی ظلماً انما یأکلون فی بطونھم ناراً و سیصلون سعیراً}،3/256،حدیث نمبر:(2766)ومسلم کتاب الایمان،باب بیان الکبائر وأکبرھا،1/92،حدیث نمبر:(89)۔
[2] جامع البیان عن تاویل آی القرآن للطبری،8/245،حدیث نمبر:(9207)،نیز کبائر کی تعداد کے لئے مذکورہ مرجع کا 8/233 تا 258،اور فتح الباری لابن حجر(12/183)ملاحظہ کریں۔
[3] دیکھئے:شرح نووی بر صحیح مسلم،2/444،وشرح العقیدۃ الطحاویہ،لابن ابی العز،ص 418،والجواب الکافی لمن سأل عن الدواء الشافی،لابن القیم،ص225،226۔