کتاب: ہدایت کا نور اور ظلمات کے اندھیرے - صفحہ 480
﴿الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ ۚ﴾[1]۔
وہ لوگ جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں اور بے حیائی سے بھی ‘ سوائے چھوٹے گناہ کے۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیاکہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کونسا ہے؟ آپ نے فرمایا:یہ کہ تم اللہ کا کوئی شریک بناؤ‘ جبکہ تنہااس نے تمہیں پیداکیا ہے‘ میں نے کہا:واقعی یہ تو بہت بڑا گناہ ہے‘ کہتے ہیں کہ میں عرض کیا:پھر کونسا گناہ؟ آپ نے فرمایا:پھر یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کردو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا،کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا:پھر کونسا گناہ؟ آپ نے فرمایا:پھر یہ کہ تم اپنی پڑوسن سے زناکرو[2]۔
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے گناہ کی خبر نہ دوں؟(تین مرتبہ)،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:کیوں نہیں اے اللہ کے رسول!(ضرور بتایئے)فرمایا:اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا،آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا:خبردار! اور جھوٹی بات‘ آپ اسے مسلسل دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا:اے کاش آپ خاموش ہوجاتے[3]۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’الصلوات الخمس،والجمعۃ إلی الجمعۃ،ورمضان إلی رمضان،مکفرات لما بینھن إذا اجتنبت الکبائر ‘‘ وفي روایۃ:’’مالم تغش الکبائر‘‘[4]۔
پنجوقتہ نمازیں‘ ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک درمیان میں سرزد
[1] سورۃ النجم:32۔
[2] متفق علیہ:صحیح بخاری،کتاب تفسیر القرآن،باب قولہ تعالی:{فلا تجعلوا للّٰه أنداداً وأنتم تعلمون}،5/ 172،حدیث نمبر:(4477)ومسلم،کتاب الایمان،باب کون الشرک أعظم الذنوب وبیان أعظمھا بعدہ،1/90،حدیث نمبر:(86)۔
[3] متفق علیہ:صحیح بخاری،کتاب الشھادات،باب ماقیل فی شھادۃ الزور،2/204،حدیث نمبر:(2654)ومسلم،کتاب الایمان،باب الکبائر و أکبرھا،1/91،حدیث نمبر:(87)۔
[4] صحیح مسلم،کتاب الطھارہ،باب الصلوات الخمس والجمعۃ الی الجمعۃ ورمضان الی رمضان مکفرات لما بینھن ما اجتنبت الکبائر،1/209،حدیث نمبر:(2332)۔